BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
دنیا

وینیزویلا کے جہاز پر امریکی حملہ قانونی تھا، وائٹ ہاؤس

  • امریکی ایڈمرل فرینک بریڈلی نے یہ کارروائیاں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی اجازت سے کیں،بیان
شائع اپ ڈیٹ

امریکا میں وینیزویلا کے مبینہ منشیات بردار جہاز پر کیے گئے مہلک حملوں کے معاملے نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ایڈمرل فرینک بریڈلی نے یہ کارروائیاں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی اجازت سے کیں، حالانکہ ناقدین انہیں غیر قانونی قرار دے رہے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ دوسری کارروائی مبینہ طور پر بچ جانے والے افراد کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع کی ہدایت پر پہلے حملے کے دو زندہ بچ جانے والوں کو مارنے کے لیے دوسرا حملہ کیا گیا۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دوسری کارروائی کے حق میں نہیں تھے اور پیٹ ہیگستھ نے بھی ایسا حکم دینے کی تردید کی ہے۔ اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ وزیر دفاع نے 2 ستمبر کی کارروائی کے لیے مکمل اختیار دیا تھا اور یہ کارروائی امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی پانیوں میں کی گئی۔

ستمبر سے اب تک امریکی فوج کی جانب سے کیریبین اور لاطینی امریکا کے ساحلی علاقوں میں کم از کم 19 حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 76 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ماہرین اور قانون سازوں نے ان حملوں کی قانونی حیثیت پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ناکارہ یا سمندر میں بے یار و مددگار افراد پر حملہ ممنوع ہے اور انہیں طبی امداد دینا لازم ہوتا ہے، جب تک وہ مزاحمت نہ کریں۔

قانون کی ماہر پروفیسر لورا ڈکنسن کے مطابق یہ کارروائیاں مسلح تنازع کے زمرے میں نہیں آتیں، اس لیے مہلک طاقت کا استعمال آخری حل کے طور پر ہی ممکن تھا۔ ایک سابق فوجی وکلاء کے گروپ نے ان احکامات کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا حکم ماننے والے اہلکاروں پر جنگی جرائم کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں ممکنہ فوجی مداخلت اور خفیہ کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ مادورو نے منشیات اسمگلنگ کے الزامات کی تردید کی ہے۔

Comments

Comments are closed.