چین کے صدر شی جن پنگ نے منگل کے روز روس کے ساتھ باہمی سرمایہ کاری کے فروغ اور تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، اگرچہ بیرونی حالات تشویش ناک قرار دیے گئے ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں روسی وزیراعظم میخائل میشوستین سے ملاقات کی۔ اس سے ایک روز قبل چینی وزیراعظم لی چیانگ نے ہانگژو میں میشوستین سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ چین روس کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا اور مشترکہ سکیورٹی مفادات کے تحفظ کیلئے کوشاں ہے۔
کریملن کے مطابق میخائل میشوستین کا یہ دورہ ایسے وقت میں اہمیت رکھتا ہے جب یوکرین جنگ کے باعث روس مغربی پابندیوں کے دباؤ میں ہے اور چین کے ساتھ تجارت میں سست روی کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات بیرونی اتار چڑھاؤ کے باوجود اعلیٰ سطح اور بہتر معیار کی سمت میں مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تعلقات کا تحفظ، استحکام اور فروغ دونوں ممالک کا اسٹریٹجک انتخاب ہے۔
چینی صدر نے توانائی، زراعت، خلائی تحقیق، ڈیجیٹل معیشت اور گرین ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے اور نئی ترقیاتی جہتیں پیدا کرنے پر زور دیا۔
میخائل میشوستین نے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور مشترکہ منصوبوں کی معاونت کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
دونوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں تمام شعبوں میں تعاون مضبوط کرنے اور بیرونی چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا۔ روس نے ون چائنا پالیسی پر اپنے عزم کا اعادہ کیا اور تائیوان کی آزادی کی مخالفت کا اعادہ کیا۔

























Comments
Comments are closed.