امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کے دوران چپ ساز کمپنی این ویڈیا (Nvidia) کے جدید ترین بلیک ویل مصنوعی ذہانت (اے آئی) چپ پر کوئی بات نہیں کی۔
یہ بیان انہوں نے ایک روز قبل دیے گئے اپنے تبصرے سے پیچھے ہٹتے ہوئے دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ کمپنی کو اپنی موجودہ نمایاں جی پی یو پروسیسر جو مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے کا ایک کم طاقت والا ورژن برآمد کرنے میں مدد دینے پر غور کر سکتے ہیں۔
تاہم، ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد این ویڈیا کی یہ امیدیں کمزور پڑ گئی ہیں کہ اسے امریکہ اور چین دونوں سے اپنی اب تک کی سب سے طاقتور اے آئی چپ کے محدود ورژن کی فروخت کی منظوری مل سکے گی۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد، ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم بلیک ویل چپس کے بارے میں بات نہیں کر رہے۔
بدھ کے روز، جنوبی کوریا کے سفر کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس چپ کے بارے میں چینی صدر سے بات کر سکتے ہیں۔























Comments
Comments are closed.