BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

نیویارک کے میئر کے انتخاب میں 34 سالہ ظہران ممدانی غیر متوقع طور پر نمایاں امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں، جنہیں امریکی ڈیموکریٹس کی مشکلات کے حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ وہ پارٹی کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتے، لیکن ان کی مقبولیت ڈیموکریٹس کے لیے ووٹرز کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے اشارے ضرور فراہم کرتی ہے۔

ایک حالیہ وال اسٹریٹ جرنل سروے کے مطابق 63 فیصد امریکی ووٹرز ڈیموکریٹک پارٹی کو منفی طور پر دیکھتے ہیں، جو گزشتہ 30 برسوں میں پارٹی کی کم ترین منظوری کی شرح ہے۔ نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر جان کین کا کہنا ہے کہ پارٹی کو اپنے روایتی ووٹرز، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات اور نوجوانوں سے دوبارہ رابطہ بحال کرنا ہوگا۔

مزدور طبقے اور نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لیے ظہران ممدانی نے اپنے منشور میں کرایوں میں اضافے پر پابندی، مفت بس سروس اور بچوں کی دیکھ بھال کی مفت سہولت جیسے اقدامات شامل کیے ہیں۔ ان کی ٹرمپ مخالف پالیسیوں نے ڈیموکریٹک ووٹرز کے ایک بڑے حصے میں مضبوط علامتی اثر پیدا کیا ہے۔

سروے کے مطابق ظہران ممدانی اپنے حریف اور سابق گورنر اینڈریو کومو پر دس پوائنٹس سے زیادہ کی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نیویارک جیسے متنوع اور لبرل شہر میں مقبول ہونا ایک بات ہے، مگر قومی سطح پر اسی طرز کی کامیابی حاصل کرنا ایک مختلف معاملہ ہوگا۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیئل شلزمن کے مطابق ظہران ممدانی امریکی بائیں بازو کی نئی توانائی کی علامت ہیں، لیکن ان کی پالیسیوں کو ملک بھر میں قبولیت حاصل ہونا مشکل ہو سکتا ہے۔

ظہران ممدانی یوگنڈا میں ایک بھارتی نژاد مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے اور 2018 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ ناقدین کے مطابق ان کی قومیت، مذہب اور پولیس کو نسل پرست کہنے جیسے بیانات دیہی یا قدامت پسند علاقوں میں ووٹرز کو متاثر نہیں کر سکیں گے۔

ریپبلکن رہنما، بشمول صدر ٹرمپ، انہیں کمیونسٹ قرار دے کر ڈیموکریٹک پالیسیوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اگرچہ ظہران ممدانی کے پیغام میں عوامی دلچسپی ہے، لیکن ان کی شخصیت کو درست پیغام، غلط نمائندہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چونکہ وہ امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے، اس لیے وہ مستقبل میں صدارتی انتخاب کے لیے اہل نہیں ہیں۔

Comments

Comments are closed.