عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں منگل کو مزید کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ دو سیشنز میں بھی گراوٹ کا شکار رہیں۔ تیل کی قیمتوں پر دباؤ کی بنیادی وجہ اوپیک کی جانب سے پیداوار میں اضافے کے منصوبے ہیں، جنہوں نے امریکہ اور چین کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے سے پیدا ہونے والی امیدوں کا اثر کم کر دیا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 4 سینٹ کمی کے ساتھ 65.58 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 9 سینٹ گر کر 61.22 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
اے این زیڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق تیل کے تاجروں نے امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیش رفت اور مجموعی سپلائی کے امکانات کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اوپیک پلس، جس میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اس کے اتحادی ممالک، بشمول روس شامل ہیں، دسمبر میں پیداوار میں معمولی اضافے کے فیصلے کی جانب مائل ہیں۔
اوپیک اور اتحادی ممالک کئی سالوں سے پیداوار میں کمی کر کے مارکیٹ کو سہارا دیتے رہے، تاہم اپریل سے ان پابندیوں میں نرمی کا آغاز کیا گیا۔ دوسری جانب، امریکہ اور چین جو دنیا کے سب سے بڑے تیل صارف ممالک ہیں کے درمیان تجارتی معاہدے کی امیدیں مارکیٹ کے لیے سہارا بن رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ جمعرات کو جنوبی کوریا میں ملاقات کریں گے۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ بیجنگ چاہتا ہے واشنگٹن اعلیٰ سطح تعلقات کی تیاری کے لیے درمیان کا راستہ اختیار کرے۔
گزشتہ ہفتے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی نے جون کے بعد سب سے زیادہ ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا تھا، جب امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین تنازع پر روس کی تیل کمپنیوں لوک آئل اور روزنیفٹ پر پابندیاں عائد کیں۔ پابندیوں کے بعد روس کی دوسری بڑی تیل کمپنی لوک آئل نے اپنے بین الاقوامی اثاثے فروخت کرنے کا اعلان کیا۔
اے این زیڈ کے مطابق، امریکی پابندیوں نے مارکیٹ کو حیران ضرور کیا، تاہم تیل کی اضافی فراہمی کے خدشات برقرار ہیں، جو قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

























Comments
Comments are closed.