وفاقی حکومت نے مالیاتی نظم و نسق اور پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کے اختیارات سے متعلق ضوابط 2021 میں ترمیم کر دی ہے، جس کے تحت آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کا ایک اہم نگرانی کا کردار ختم کر کے اسے وزارت خزانہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو مختلف وزارتوں اور ڈویژنز میں مالیاتی نظم و نسق کے طریقہ کار پر وزارت خزانہ کے کنٹرول میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مالیاتی ڈویژن کی جانب سے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی دفعہ 27 کے تحت جاری کردہ نوٹیفکیشن (ایس آر او (1)/2025) کے مطابق ضابطہ نمبر 31(ج) میں الفاظ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے مشاورت کے بعد کو تبدیل کر کے وزارت خزانہ کی سفارش پر کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے نتیجے میں اب وزارت خزانہ کو اس ضابطے کے تحت اقدامات کی سفارش کا اختیار حاصل ہو گیا ہے، یعنی مالیاتی فیصلوں کا اختیار اس وزارت کے پاس مرتکز ہو جائے گا جو بجٹ کنٹرول اور مالی پالیسیوں کی ذمہ دار ہے۔
حکام کے مطابق یہ ترمیم پبلک فنانس مینجمنٹ ریفارم (پی ایف ایم آر) فریم ورک کے تحت جاری اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کے مالیاتی اختیارات کو منظم کرنا اور مالیاتی احتساب کے ایک متحد نظام کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد انتظامی مالیاتی فیصلوں میں آڈیٹر جنرل کا مشاورتی کردار محدود ہو سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.