BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق فیس بک کی ملکیتی کمپنی میٹا نے اپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ڈویژن میں 600 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد جارحانہ بھرتیوں کے بعد آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل، نیو یارک ٹائمز اور دیگر امریکی اخبارات کے مطابق، یہ کٹوتیاں میٹا کے ٹی بی ڈی لیب پر اثر انداز نہیں ہوں گی، جو چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ کے قائم کردہ خصوصی تحقیقی یونٹ کے تحت کام کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، ٹی بی ڈی لیب نے تیزی سے توسیع کی تھی اور اوپن اے آئی اور ایپل جیسی کمپنیوں سے اعلیٰ درجے کے محققین کو بھاری معاوضے پر بھرتی کیا تھا۔

تاہم، حالیہ چھانٹی کا نشانہ وہ ٹیمیں بنیں گی جو مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) پر کام کر رہی تھیں۔ مقصد یہ ہے کہ کمپنی کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے، بغیر اس کے کہ میٹا کے طویل المدتی جدید منصوبے متاثر ہوں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی متاثرہ ملازمین کو ادارے کے اندر دوسری ذمہ داریاں بھی دے سکتی ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ یہ فیصلہ تنظیمی پیچیدگی کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جو گزشتہ دو برسوں کے دوران تیز رفتار بھرتیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔

دونوں اخبارات نے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ کے ایک میمو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ، اب فیصلے کرنے کے لیے کم لوگوں سے بات کرنا پڑے گی، جس سے عمل میں تیزی آئے گی۔

میٹا کی جانب سے اس معاملے پر اے ایف پی کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں دنیا بھر میں اپنے اے آئی شعبوں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اخراجات میں کمی اور تنظیمی اصلاحات پر بھی توجہ دے رہی ہیں۔

Comments

Comments are closed.