وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے اتوار کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے جانبدارانہ اور قبل از وقت قرار دیا، جو ایک فضائی حملے میں تین افغان کرکٹرز کی مبینہ ہلاکت سے متعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کے الزامات کی کوئی غیرجانبدار توثیق موجود نہیں۔
عطااللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہاکہ آئی سی سی نے ایک متنازع الزام کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ایک تسلیم شدہ حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے، جو نہایت غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔انہوں نے اس مؤقف کی فوری تصحیح کا مطالبہ کیا۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ اس واقعے میں بغیر ثبوت بیانیے کو تقویت دینے کےتشویشناک رجحان کی جھلک نظر آتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ آئی سی سی کے بیان کے چند گھنٹوں کے اندر اس کے چیئرمین جئے شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسی دعوے کو دہرا دیا، جبکہ افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے بھی اپنی پریس ریلیز میں آئی سی سی کے بیان کو ہی بنیاد بنایا جب کہ اس کو چاہیے تھا کہ وہ کوئی ثبوت فراہم کرتا۔
انہوں نے مزید کہاکہ یہ ترتیب ایسے لگتی ہے جیسے ایک مخصوص بیانیہ بازگشت پیدا کرنے کے لیے جان بوجھ کر ترتیب دیا گیا ہو۔
عطا تارڑ نے کہا کہ یہ واقعہ آئی سی سی کی موجودہ قیادت کے دور میں پیدا ہونے والے غیر ضروری تنازعات کے سلسلے کی کڑی ہے جو بالخصوص پاکستانی کرکٹ کو نشانہ بناتے ہیں، جیسا کہ حالیہ ایشیا کپ میں مصافحے کا تنازعہ جس کے باعث پاکستان کا میچ تاخیر کا شکار ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات نے آئی سی سی کی غیرجانبداری پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے عالمی ادارے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آزادی برقرار رکھے اور بغیر تصدیق الزامات عائد کرنے سے گریز کرے اور ہر قوم کے لیے مساوی معیار اپنائے۔
وزیرِ اطلاعات نے زور دیا کہ سیاست کو کھیل خاص طور پر کرکٹ میں ہرگز داخل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی جس کی قیادت بھارت سے تعلق رکھنے والے چیئرمین کر رہے ہیں کو چاہیے کہ وہ غیرجانبداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو بحال کریں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب آئی سی سی نے اپنے اعلامیے میں تین افغان کرکٹرز کی مبینہ ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

























Comments
Comments are closed.