وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز کہا کہ پاکستان، کابل میں قائم طالبان کی عبوری حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اسلام آباد کے جائز سیکیورٹی خدشات کو دور کیا جائے۔ یہ بیان پاک۔افغان سرحد پر حالیہ پرتشدد جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے تصدیق کی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 48 گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، جو طالبان انتظامیہ کی درخواست پر عمل میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغان حکام واقعی معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں، اب گیند ان کے کورٹ میں ہے۔
وزیراعظم نے افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جنگجوؤں کو پناہ دے رہی ہے، جو پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق، افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند نہ صرف شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی شہید کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ سرحدی جھڑپیں بظاہر منصوبہ بند تھیں، کیونکہ ان کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نئی دہلی میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سفارتی ذرائع سے متعدد بار کابل سے رابطہ کیا، اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف افغانستان کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ قطر پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مصالحتی کردار ادا کر رہا ہے، جب کہ قطری امیر نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم ہمیشہ سے پڑوسی ہیں اور رہیں گے، اس لیے باہمی مفاد اسی میں ہے کہ تنازعات کا پرامن حل نکالا جائے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کسی ایسی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا جس کا مقصد صرف وقت حاصل کرنا ہو۔
شہباز شریف نے پاک فوج اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے اشتعال انگیزی کا جواب ناپ تول کر مگر بھرپور انداز میں دیا گیا۔
غزہ میں جنگ بندی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور مسلم ممالک خصوصاً قطر، سعودی عرب، مصر، اردن، ترکیہ، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات کے کردار کو سراہا۔
اقتصادی امور پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کو ملکی معیشت کے لیے اہم موڑ قرار دیا اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان قرضوں سے نجات حاصل کرے، یہ ہمارا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہونا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.