کے۔الیکٹرک کے معاملے پر سعودی کمپنی ال جمیع اور ایشیاپیک کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، دونوں فریقین ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کر رہے ہیں۔
یہ نیا تنازع چند روز قبل کراچی میں سعودی وزیر شہزادہ منصور بن محمد السعود اور ایشیاپیک کے سربراہ شہریار چشتی کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد کے۔الیکٹرک کے حصص کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
کے۔الیکٹرک کے ڈائریکٹر اور اہم شیئر ہولڈر شان اے اشعری نے کے۔الیکٹرک کے چیف رسک آفیسر و کمپنی سیکرٹری رضوان پسنانی کے نام ایک خط میں، جو انہوں نے کے۔ای ایس پاور لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور ال جمیع پاور لمیٹڈ کی جانب سے لکھا، وضاحت کی کہ انہیں شہریار چشتی کی جانب سے کے۔ای ایس پاور لمیٹڈ میں اکثریتی حصص کی فروخت کے لیے کسی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی۔
شان اے اشعری نے کہا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کے علاوہ انہیں کسی بھی ممکنہ شیئرز کی فروخت کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی گئیں، نہ ہی کے۔ای ایس پی کے بورڈ یا شیئر ہولڈرز کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اعلان محض پاکستانی عوامی رائے کو متاثر کرنے اور سعودی حکام کے ساتھ وابستگی ظاہر کر کے ایک وقار کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
شان اے اشعری نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اعلان بظاہر محض ایک تصویری موقع سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریار چشتی کے پاس کے۔ای ایس پی کے کوئی حصص نہیں، اور اگر وہ ان پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ اقدام شیئر ہولڈرز ایگریمنٹ (ایس ایچ اے) کی خلاف ورزی ہے۔
شان اے اشعری نے اپنی تحریر میں چار نکات پیش کیے: (1) شہریار چشتی کے پاس کے۔ای ایس پاور لمیٹڈ کے کوئی حصص نہیں، لہٰذا وہ انہیں فروخت نہیں کر سکتے۔ کمپنی کے تین شیئر ہولڈرز ہیں — ال جمیع پاور لمیٹڈ، ڈینہم انویسٹمنٹس لمیٹڈ اور آئی جی سی ایف ایس پی وی 21 لمیٹڈ (ایس پی وی 21)، جس کے واحد ڈائریکٹر کیسی میکڈونل ہیں۔ (2) ایس ایچ اے کے تحت میکڈونل یا ایس پی وی 21 کو اپنی ملکیت یا کنٹرول کی منتقلی کی اجازت نہیں۔ (3) شہریار چشتی نے ال جمیع پاور لمیٹڈ اور ڈینہم کی منظوری کے بغیر ایس پی وی 21 پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ (4) 31 جولائی 2025 کو گرینڈ کورٹ آف کیمین آئی لینڈز کے جسٹس آصف نے مقدمہ ( ال جمیع پاور لمیٹڈvآئی جی سی ایف ایس پی وی 21 لمیٹڈ ایف ایس ڈی 2025-0037) میں قرار دیا کہ ایس پی وی 21 نے ایس ایچ اے کی ممکنہ خلاف ورزی کی ہے، اور یہ ایک “سنگین معاملہ ہے جس پر سماعت ضروری ہے۔
شان اے اشعری نے کہا کہ جب تک ال جمیع پاور لمیٹڈ اور ڈینہم کے درمیان باہمی اتفاق یا ایس ایچ اے کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، کے۔ای ایس پاور لمیٹڈ میں کسی بھی طرح کی ملکیت یا کنٹرول کی تبدیلی ممکن نہیں۔
دوسری جانب، شہریار چشتی نے جمعرات کو بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں ال جمیع پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا اور کہا کہ پچھلے تین برسوں سے کراچی کے صارفین، وفاقی اور صوبائی حکومتیں، اور وہ خود ال جمیع کے مسلسل جھوٹ کے عادی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شان اے اشعری سے پوچھیں کہ ان کے پاس کے۔الیکٹرک کے کتنے حصص ہیں؟ وہ صرف 9 فیصد کے مالک ہیں، مگر پوری کمپنی پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025



















Comments
Comments are closed.