بھارت روس سے تیل کی خریداری روک دیگا، ٹرمپ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد اضافہ
عالمی منڈی میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کر دے گا۔ روس بھارت کی تیل کی درآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ فراہم کرتا ہے۔
برینٹ کروڈ کے سودے 57 سینٹ یا 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 62.48 ڈالر پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 54 سینٹ اضافے کے ساتھ 58.81 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
گزشتہ سیشن میں دونوں بینچ مارکس نے مئی کے اوائل کے بعد کم ترین سطح کو چھوا تھا، جس کی وجہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کی وہ رپورٹ تھی جس میں اگلے سال تیل کی فراہمی میں بڑے اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ آئی ای اے کے مطابق، اوپیک پلس ممالک اور دیگر پیدا کنندگان کی جانب سے پیداوار میں اضافے کے باوجود طلب کمزور رہنے کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری روک دے گا، جبکہ امریکہ اب چین پر بھی یہی دباؤ ڈالے گا تاکہ ماسکو کی توانائی آمدن میں کمی لائی جا سکے اور اسے یوکرین کے معاملے پر مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔
روس سے سمندری راستے سے خام تیل خریدنے والے سب سے بڑے ممالک بھارت اور چین ہیں، جنہیں امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کا سامنا ہے۔ طویل عرصے تک بھارت نے امریکی دباؤ کے باوجود روسی تیل کی خریداری جاری رکھی، جسے بھارتی حکام نے اپنی توانائی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق بھارت کا روسی تیل کی خریداری بند کرنا عالمی منڈی کے لیے مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے روس کے ایک بڑے خریدار کی طلب ختم ہو جائے گی۔
سرمایہ کار اب امریکی توانائی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی ہفتہ وار رپورٹ کے منتظر ہیں، جس میں امریکی خام تیل، پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر کی تازہ صورتحال پیش کی جائے گی۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے ہفتے امریکہ میں خام تیل اور پیٹرول کے ذخائر میں اضافہ جبکہ ڈیزل کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

























Comments
Comments are closed.