پاکستان 19 اکتوبر کو چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے اپنا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (ایچ ایس ون) لانچ کرے گا۔ اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے مطابق یہ مشن ملک کے قومی خلائی پروگرام میں ایک تاریخی سنگ میل ہے جو پاکستان کو زراعت، شہری ترقی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ماحولیاتی نگرانی کے ایک نئے دور میں داخل کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایچ ایس ون ہائی ریزولوشن اسپیکٹرل ڈیٹا کے ذریعے درست فارمنگ میں مدد دے گا، جس سے فصلوں کی صحت، مٹی کی نمی اور آبپاشی کے نمونوں کی نگرانی ممکن ہو گی جب کہ اس سے پیداوار کے تخمینے میں 15 تا 20 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
سیٹلائٹ کے جدید سینسر شہری ترقی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی، زمین کے استعمال اور وسائل کے انتظام میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ سپارکو کے مطابق ایچ ایس ون قدرتی آفات جیسے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلوں کی پیش گوئی اور تیز ردعمل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
پاکستان کے بڑھتے ہوئے ریموٹ سینسنگ بیڑے میں HS-1 کی شمولیت جس میں PRSS-1 (جولائی 2018)، EO-1 (جنوری 2025) اور KS-1 (جولائی 2025) شامل ہیں ملک کے خلا سے متعلق ڈھانچے کو نمایاں طور پر مضبوط اور جدید بنائے گی۔
یہ سیٹلائٹ تباہی کے بعد کی صورتحال، آبی وسائل اور جنگلات کے انحطاط پر بروقت ڈیٹا فراہم کرے گا۔
سپارکو نے کہا کہ یہ مشن نیشنل اسپیس پالیسی اور ویژن 2047 کے مطابق ہے، جس کا مقصد پاکستان کو خلائی ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے میدان میں قائدانہ مقام دلانا ہے۔























Comments
Comments are closed.