BR100 Decreased By (-1.49%)
BR30 Decreased By (-1.14%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 24.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 30.91 Decreased By ▼ -0.79 (-2.49%)
CNERGY 12.11 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 15.84 Increased By ▲ 0.29 (1.86%)
DGKC 200.75 Decreased By ▼ -2.44 (-1.2%)
FABL 92.00 Decreased By ▼ -1.14 (-1.22%)
FCCL 58.21 Decreased By ▼ -0.50 (-0.85%)
FFL 13.40 Decreased By ▼ -0.07 (-0.52%)
GGL 19.12 Decreased By ▼ -0.79 (-3.97%)
HBL 299.50 Decreased By ▼ -3.26 (-1.08%)
HUBC 202.60 Decreased By ▼ -5.45 (-2.62%)
HUMNL 8.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.81%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.35 Decreased By ▼ -0.47 (-1.89%)
MLCF 100.19 Decreased By ▼ -1.90 (-1.86%)
OGDC 313.80 Decreased By ▼ -2.44 (-0.77%)
PAEL 33.55 Decreased By ▼ -0.47 (-1.38%)
PIBTL 13.23 Decreased By ▼ -0.19 (-1.42%)
PIOC 261.99 Decreased By ▼ -3.45 (-1.3%)
PPL 218.10 Decreased By ▼ -3.20 (-1.45%)
PRL 85.50 Increased By ▲ 0.90 (1.06%)
SNGP 91.82 Decreased By ▼ -2.03 (-2.16%)
SSGC 22.65 Decreased By ▼ -0.29 (-1.26%)
TELE 7.17 Increased By ▲ 0.10 (1.41%)
TPLP 13.15 Increased By ▲ 0.04 (0.31%)
TRG 53.58 Decreased By ▼ -0.45 (-0.83%)
UNITY 8.03 Increased By ▲ 0.13 (1.65%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

امریکی دفاعی کمپنی ریتھیون نے ایک ترمیم شدہ معاہدے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک پاکستان کو درمیانے فاصلے تک فضا سے فضا میں مارکرنے والے جدید میزائلز(AMRAAM) فراہم کرے گی۔ اس ترمیم کے ذریعے پاکستان کو خریدار ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان فضائیہ کے زیر استعمال F-16 طیارے بھی انہی میزائلوں سے لیس کیے جاتے ہیں۔

امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے 30 ستمبر کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ریتھیون کوایڈوانسڈ میڈیم رینج ایئر ٹو ایئر میزائلز (اے ایم آر اے اے ایم ) میزائل کے جدید سی 8 اور ڈی 3 ویریئنٹس کی تیاری کے لیے 41.6 ملین ڈالر کا فِرم-فکسڈ پرائس معاہدہ دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کے بعد معاہدے کی مجموعی مالیت 2.47 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.5 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق میزائل کی تیاری کا کام ٹکسن، ایریزونا میں کیا جائے گا، جو 30 مئی 2030 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ غیر ملکی دفاعی خریداروں پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان سمیت برطانیہ، پولینڈ، جرمنی، فن لینڈ، آسٹریلیا، رومانیہ، قطر، عمان، کوریا، یونان، سوئٹزرلینڈ، پرتگال، سنگاپور، نیدرلینڈز، چیک ریپبلک، جاپان، سلوواکیہ، ڈنمارک، کینیڈا، بیلجیم، بحرین، سعودی عرب، اٹلی، ناروے، اسپین، کویت، سویڈن، تائیوان، لیتھوانیا، اسرائیل، بلغاریہ، ہنگری اور ترکی شامل ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 7 مئی کو جاری کیے گئے سابقہ معاہدے میں پاکستان خریداروں کی اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔

پاکستان اس سے قبل جنوری 2007 میں اے ایم رام ( AMRAAM) میزائلز کی اپنی سب سے بڑی بین الاقوامی خریداری کے تحت 700 میزائلز خرید چکا ہے۔

Comments

Comments are closed.