امریکی دفاعی کمپنی 2030 تک پاکستان کے لیے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تیار کرے گی، معاہدہ
امریکی دفاعی کمپنی ریتھیون نے ایک ترمیم شدہ معاہدے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک پاکستان کو درمیانے فاصلے تک فضا سے فضا میں مارکرنے والے جدید میزائلز(AMRAAM) فراہم کرے گی۔ اس ترمیم کے ذریعے پاکستان کو خریدار ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان فضائیہ کے زیر استعمال F-16 طیارے بھی انہی میزائلوں سے لیس کیے جاتے ہیں۔
امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے 30 ستمبر کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ریتھیون کوایڈوانسڈ میڈیم رینج ایئر ٹو ایئر میزائلز (اے ایم آر اے اے ایم ) میزائل کے جدید سی 8 اور ڈی 3 ویریئنٹس کی تیاری کے لیے 41.6 ملین ڈالر کا فِرم-فکسڈ پرائس معاہدہ دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کے بعد معاہدے کی مجموعی مالیت 2.47 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.5 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق میزائل کی تیاری کا کام ٹکسن، ایریزونا میں کیا جائے گا، جو 30 مئی 2030 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ غیر ملکی دفاعی خریداروں پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان سمیت برطانیہ، پولینڈ، جرمنی، فن لینڈ، آسٹریلیا، رومانیہ، قطر، عمان، کوریا، یونان، سوئٹزرلینڈ، پرتگال، سنگاپور، نیدرلینڈز، چیک ریپبلک، جاپان، سلوواکیہ، ڈنمارک، کینیڈا، بیلجیم، بحرین، سعودی عرب، اٹلی، ناروے، اسپین، کویت، سویڈن، تائیوان، لیتھوانیا، اسرائیل، بلغاریہ، ہنگری اور ترکی شامل ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 7 مئی کو جاری کیے گئے سابقہ معاہدے میں پاکستان خریداروں کی اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔
پاکستان اس سے قبل جنوری 2007 میں اے ایم رام ( AMRAAM) میزائلز کی اپنی سب سے بڑی بین الاقوامی خریداری کے تحت 700 میزائلز خرید چکا ہے۔






















Comments
Comments are closed.