BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.02 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 27.17 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
BOP 36.46 Increased By ▲ 0.46 (1.28%)
CNERGY 11.94 Increased By ▲ 0.69 (6.13%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.03 Decreased By ▼ -2.16 (-0.98%)
FABL 100.40 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 57.36 Increased By ▲ 0.48 (0.84%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
GGL 24.62 Increased By ▲ 0.72 (3.01%)
HBL 324.62 Decreased By ▼ -0.98 (-0.3%)
HUBC 225.64 Increased By ▲ 2.06 (0.92%)
HUMNL 10.79 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.14 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
MLCF 102.07 Decreased By ▼ -1.02 (-0.99%)
OGDC 319.19 Increased By ▲ 0.70 (0.22%)
PAEL 43.88 Decreased By ▼ -0.50 (-1.13%)
PIBTL 16.84 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 274.84 Decreased By ▼ -1.02 (-0.37%)
PPL 221.55 Decreased By ▼ -0.93 (-0.42%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 103.79 Decreased By ▼ -1.12 (-1.07%)
SSGC 27.28 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
TELE 8.62 Decreased By ▼ -0.19 (-2.16%)
TPLP 14.98 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 63.29 Increased By ▲ 0.92 (1.48%)
UNITY 11.51 Decreased By ▼ -0.39 (-3.28%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

امریکی دفاعی کمپنی ریتھیون نے ایک ترمیم شدہ معاہدے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک پاکستان کو درمیانے فاصلے تک فضا سے فضا میں مارکرنے والے جدید میزائلز(AMRAAM) فراہم کرے گی۔ اس ترمیم کے ذریعے پاکستان کو خریدار ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان فضائیہ کے زیر استعمال F-16 طیارے بھی انہی میزائلوں سے لیس کیے جاتے ہیں۔

امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے 30 ستمبر کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ریتھیون کوایڈوانسڈ میڈیم رینج ایئر ٹو ایئر میزائلز (اے ایم آر اے اے ایم ) میزائل کے جدید سی 8 اور ڈی 3 ویریئنٹس کی تیاری کے لیے 41.6 ملین ڈالر کا فِرم-فکسڈ پرائس معاہدہ دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کے بعد معاہدے کی مجموعی مالیت 2.47 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.5 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق میزائل کی تیاری کا کام ٹکسن، ایریزونا میں کیا جائے گا، جو 30 مئی 2030 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ غیر ملکی دفاعی خریداروں پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان سمیت برطانیہ، پولینڈ، جرمنی، فن لینڈ، آسٹریلیا، رومانیہ، قطر، عمان، کوریا، یونان، سوئٹزرلینڈ، پرتگال، سنگاپور، نیدرلینڈز، چیک ریپبلک، جاپان، سلوواکیہ، ڈنمارک، کینیڈا، بیلجیم، بحرین، سعودی عرب، اٹلی، ناروے، اسپین، کویت، سویڈن، تائیوان، لیتھوانیا، اسرائیل، بلغاریہ، ہنگری اور ترکی شامل ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 7 مئی کو جاری کیے گئے سابقہ معاہدے میں پاکستان خریداروں کی اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔

پاکستان اس سے قبل جنوری 2007 میں اے ایم رام ( AMRAAM) میزائلز کی اپنی سب سے بڑی بین الاقوامی خریداری کے تحت 700 میزائلز خرید چکا ہے۔

Comments

Comments are closed.