صدرِ پاکستان نے 11ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) تشکیل دے دیا ہے۔ اس کمیشن کے سامنے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک نیا این ایف سی ایوارڈ تجویز کرے، جو وفاقی ٹیکس آمدنی کو عمودی طور پر وفاق اور صوبوں کے درمیان اور افقی طور پر صوبوں کے آپس میں تقسیم کرنے کے اصولوں پر مبنی ہو۔
جو ایوارڈ اس وقت نافذ العمل ہے، وہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کا ایوارڈ ہے۔ یہ ایوارڈ مالی سال 2010-11 میں نافذ ہوا اور توقع کی جا رہی تھی کہ یہ پانچ سال، یعنی 2014-15 تک موثر رہے گا۔ تاہم، آٹھویں، نویں اور دسویں قومی مالیاتی کمیشن نئے ایوارڈ پر اتفاق نہ کر سکے۔ نتیجتاً، ساتواں این ایف سی ایوارڈ پچھلے پندرہ برسوں سے نافذ العمل ہے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ بھارت، جو کہ ایک وفاقی ریاست ہے، اس وقت اپنے پندرہویں مالیاتی کمیشن کے پانچ سالہ ایوارڈ پر عمل پیرا ہے۔

گزشتہ پندرہ برسوں میں این ایف سی منتقلیوں کی سطح کا جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں تین اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ سب سے پہلے، مالی سال 2010-11 سے اب تک منتقلیوں کے رجحان (ٹرینڈ) کا تعین ضروری ہے۔ دوسرا، ان منتقلیوں کا وفاقی ٹیکس آمدنی میں کتنا حصہ رہا ہے، یہ جاننا اہم ہے۔ تیسرا، یہ تجزیہ بھی مفید ہوگا کہ اگر افقی تقسیم (ہاریزینٹل شیئرنگ) کا وہی فارمولہ جاری رہتا لیکن متعلقہ اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کیا جاتا، تو 2023-24 میں ہر صوبے کا حصہ کیا بنتا۔
چاروں صوبائی حکومتوں کو ہونے والی کل مالیاتی منتقلیوں میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہونے والی منتقلیاں شامل ہیں، ساتھ ہی ”براہ راست منتقلیاں“ (سٹریٹ ٹرانسفرز) بھی شامل کی جاتی ہیں۔ تاہم، براہ راست منتقلیاں مجموعی منتقلیوں کا ایک نسبتاً چھوٹا حصہ ہیں۔

منتقلیوں کے رجحان کی 2003-04 سے کی جانے والی مقداری جانچ ( کوانٹم فیکشن) یہ ظاہر کرتی ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے نفاذ سے منتقلیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مالی سال 2009-10 میں یہ منتقلیاں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی ) کے 3.8 فیصد کے برابر تھیں، جو 2010-11 میں، جب ساتواں این ایف سی ایوارڈ نافذ ہوا، بڑھ کر جی ڈی پی کے 5.1 فیصد تک پہنچ گئیں۔
منتقلیوں کی سطح میں مزید اضافہ وفاقی ٹیکس آمدنی کے جی ڈی پی کے مقابلے میں تناسب ( فیڈرل ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو) بڑھنے کے ساتھ ہوتا گیا اور یہ شرح مالی سال 2015-16 میں اپنی بلند ترین سطح یعنی 6.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم اس کے بعد وفاقی ٹیکس آمدنی کے جی ڈی پی تناسب میں مسلسل کمی کے باعث منتقلیوں کی شرح کم ہو کر 2023-24 میں جی ڈی پی کے 5.0 فیصد تک آ گئی۔
خوش قسمتی سے مالی سال 2024-25 میں وفاقی ٹیکس آمدنی کے جی ڈی پی میں نمایاں اضافے کے بعد صوبائی حکومتوں کو کی جانے والی منتقلیاں ایک بار پھر بڑھ گئیں اور اب یہ جی ڈی پی کے 6.0 فیصد کی سطح تک پہنچ چکی ہیں۔

اصل مسئلہ صوبائی حکومتوں کو وفاقی ٹیکس آمدنی میں سے موثر طور پر کی جانے والی منتقلیوں کا تناسب ہے۔ یہ ایک اہم اعداد و شمار ہے، کیونکہ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وفاقی ٹیکس آمدنی کا 57.5 فیصد حصہ دینا ایک بہت بڑا حصہ تھا۔ براہ راست منتقلیوں کو شامل کرنے کے بعد یہ حصہ دراصل 57.5 فیصد سے بھی کچھ زیادہ بنتا ہے۔
اس حصے کو دو عوامل کی بنیاد پر ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا عامل یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کو جزوی طور پر نان ٹیکس آمدنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کی صورت میں پیٹرولیم لیوی لاگو کی گئی ہے۔ اس اقدام نے موثر طور پر قابل تقسیم محاصل( ڈوائزیبل پول) کی مالیت کو کم کر دیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کو قائل کیا گیا ہے کہ وہ نقدی اضافی رقم (کیش سرپلس) پیدا کریں تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ بجٹ خسارے کو کم کیا جا سکے۔ یہ نقدی اضافی رقم قابلِ ذکر ہے جو کہ تقریباً جی ڈی پی کے 0.8 فیصد کے برابر ہے اور حقیقت میں منتقلیوں میں ایک غیر رسمی کمی کے مترادف ہے۔
لہٰذا، صوبائی حکومتوں کا حقیقی حصہ درج ذیل ہے:
صوبائی حکومتوں کے حصے میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ مالی سال 2010-11 میں یہ حصہ 55.7 فیصد تھا جو کہ 57.5 فیصد کے مقررہ حد کے قریب تھا۔ تاہم، یہ حصہ تیزی سے کم ہوتا گیا، خاص طور پر آئی ایم ایف پروگرام کے دور میں صوبوں سے بڑے کیش سرپلس (نقدی اضافی رقم) کے تقاضوں میں اضافے اور وفاقی ٹیکس آمدنی کے پیٹرولیم لیوی میں منتقل ہونے کی وجہ سے۔
مالی سال 2024-25 میں صوبوں کے کیش سرپلس کی رقم 921 ارب روپے تھی جبکہ پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی غیر ٹیکس آمدنی 1,220 ارب روپے کے قریب تھی، جو کہ ایف بی آر کی آمدنیوں کا 10 فیصد سے زائد بنتی ہے۔
مندرجہ بالا فارمولے کے مطابق صوبوں کا حصہ مالی سال 2022-23 میں 52.3 فیصد، 2023-24 میں 45.9 فیصد، اور 2024-25 میں 45.8 فیصد رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت مقرر کردہ 57.5 فیصد کے صوبوں کے حصے سے بڑی حد تک انحراف اور کمی واقع ہوئی ہے۔
اب ہم چاروں صوبوں کے افقی حصوں (ہاریزینٹل شیئرز) کا جائزہ لیتے ہیں جو ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے مطابق ہیں، جیسا کہ درج ذیل ہے:
یہ حصے درج ذیل اشاریوں (انڈیکٹرز) اور ان کے وزن (ویٹس) کی بنیاد پر مرتب کیے گئے تھے:
مسئلہ یہ ہے کہ اگر افقی تقسیم کا فارمولا بغیر تبدیلی کے برقرار رکھا جائے لیکن اشاریوں کی قدریں (میگنیٹیوڈ) مالی سال 2023-24 کے مطابق اپ ڈیٹ کی جائیں، تو صوبوں کے حصے کیا ہوں گے۔ اس حساب سے تخمینے درج ذیل ہیں:
لہٰذا اسی افقی تقسیم کے فارمولے کو اپ ڈیٹ شدہ اشاریوں کے ساتھ لاگو کرنے سے ایک منصفانہ نتیجہ نکلتا ہے۔ دو ترقی یافتہ صوبوں، پنجاب اور سندھ، کے حصے کچھ کم ہو جاتے ہیں جبکہ دو کم ترقی یافتہ صوبوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان، کے حصے بڑھ جاتے ہیں۔
یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ پنجاب اور سندھ کی آبادی میں حصہ کم ہو رہا ہے جبکہ بلوچستان میں غربت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے بھی اس صوبے کا حصہ بڑھ گیا ہے۔
لہٰذا، گیارہویں این ایف سی کو چاہیے کہ وہ صوبوں کے حصے کا تخمینہ اس بنیاد پر لگائے کہ صوبے کیش سرپلس (نقدی اضافی رقم) پیدا کریں اور پیٹرولیم لیوی کو نان ٹیکس آمدنی کے ذرائع میں منتقل کیے جانے کا بھی خیال رکھا جائے۔ مزید برآں، اگر اتفاق رائے نہ ہو تو کم از کم چاروں صوبوں کے درمیان ساتویں این ایف سی کے محصولاتی تقسیم کا فارمولا بغیر تبدیلی کے برقرار رکھا جائے، البتہ اس میں تازہ ترین اعداد و شمار اور اشاریوں کو شامل کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.