ٹیکسٹائل انڈسٹری کی نمایاں کمپنی آرٹسٹک ڈینم ملز لمیٹڈ (اے ڈی ایم ایل) نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے قابل تجدید توانائی کے حل کی طرف رُخ کرلیا ہے۔
کمپنی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بتایا کہ اس نے 2.32 میگاواٹ شمسی توانائی کے نظام کو کامیابی سے فعال کردیا ہے جبکہ اضافی 2.57 میگاواٹ پروجیکٹ کی تنصیب جاری ہے جس کی تکمیل مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکسٹائل صنعت میں بھاری توانائی کی قیمتوں نے منافع کے مارجنز کو محدود کر رکھا ہے۔
آرٹسٹک ڈینم ملز لمیٹڈ جو رسی رنگین ڈینم فیبرکس اور یارن کی تیاری و فروخت میں سرگرم ہے نے نوٹ کیا کہ ٹیکسٹائل صنعت جی ڈی پی، روزگار کے مواقع اور برآمدی آمدنی میں مسلسل اہم حصہ ڈال رہی ہے۔
کمپنی نے کہا کہ بھاری توانائی کی قیمتوں، ٹیرف دباؤ، لیکویڈٹی مسائل اور روایتی مارکیٹوں میں تعمیل کے تقاضوں جیسے چیلنجز کے باوجود یہ شعبہ اپنی مضبوطی کا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم منافع کے مارجنز کی بحالی اور طویل مدتی پائیداری کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے جن میں سستی اور بلا تعطل توانائی، خام مال کی قیمتوں میں معقولیت، ریفنڈ کے عمل میں تیز رفتاری اور کاروبار دوست ریگولیٹری فریم ورک شامل ہیں۔
پاکستان میں شمسی توانائی کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، جس نے رہائشی اور تجارتی شعبوں میں اسے عام کیا ہے، اور فیصلہ سازوں کو اس کے اثرات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے، کیونکہ بجلی کی کھپت ابھی بھی مستحکم ہے۔
تاہم، اس نسبتاً سستی توانائی کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔
گزشتہ ماہ بیکو اسٹیل لمیٹڈ نے لاہور کے بادامی باغ پلانٹ میں 2 میگاواٹ شمسی نظام کی تنصیب کے لیے معاہدہ کیا۔
اگست میں کوہ نور ملز لمیٹڈ نے 7.2 میگاواٹ شمسی توانائی کے نظام کے منصوبے کا اعلان کیا۔
دیوان سیمنٹ لمیٹڈ نے کراچی میں اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹ پر 6 میگاواٹ شمسی توانائی کے نظام کو کامیابی کے ساتھ فعال کردیا۔
مئی میں انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ جو انٹرنیشنل انڈسٹریز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے نے کراچی کی اپنے فیکٹری میں 6.4 میگاواٹ شمسی توانائی کے پروجیکٹ کو مکمل اور فعال کیا۔
مارچ میں طارق کارپوریشن لمیٹڈ جو چینی اور اس کے ضمنی مصنوعات کی تیاری میں مصروف ہے نے اپنے پلانٹ پر 200 کے ڈبلیو شمسی توانائی کے نظام کے قیام کا اعلان کیا۔

























Comments
Comments are closed.