BR100 Decreased By (-1.44%)
BR30 Decreased By (-1.74%)
KSE100 Decreased By (-1.27%)
KSE30 Decreased By (-1.33%)
BAFL 58.05 Decreased By ▼ -0.58 (-0.99%)
BIPL 27.60 Decreased By ▼ -0.60 (-2.13%)
BOP 35.25 Decreased By ▼ -0.85 (-2.35%)
CNERGY 10.07 Increased By ▲ 0.38 (3.92%)
DFML 19.40 Decreased By ▼ -0.41 (-2.07%)
DGKC 217.34 Decreased By ▼ -7.15 (-3.18%)
FABL 100.10 Decreased By ▼ -1.53 (-1.51%)
FCCL 54.22 Decreased By ▼ -1.66 (-2.97%)
FFL 17.33 Decreased By ▼ -0.25 (-1.42%)
GGL 24.75 Decreased By ▼ -0.26 (-1.04%)
HBL 310.60 Decreased By ▼ -3.18 (-1.01%)
HUBC 223.50 Decreased By ▼ -3.55 (-1.56%)
HUMNL 11.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.43%)
KEL 7.94 Decreased By ▼ -0.16 (-1.98%)
LOTCHEM 31.74 Increased By ▲ 0.28 (0.89%)
MLCF 101.20 Decreased By ▼ -3.04 (-2.92%)
OGDC 331.97 Decreased By ▼ -2.16 (-0.65%)
PAEL 43.85 Decreased By ▼ -1.18 (-2.62%)
PIBTL 17.70 Decreased By ▼ -0.27 (-1.5%)
PIOC 269.75 Decreased By ▼ -2.84 (-1.04%)
PPL 231.85 Decreased By ▼ -4.70 (-1.99%)
PRL 42.78 Increased By ▲ 0.71 (1.69%)
SNGP 111.50 Decreased By ▼ -0.90 (-0.8%)
SSGC 30.50 Decreased By ▼ -0.33 (-1.07%)
TELE 9.29 Increased By ▲ 0.12 (1.31%)
TPLP 11.76 Decreased By ▼ -0.86 (-6.81%)
TRG 64.00 Decreased By ▼ -1.58 (-2.41%)
UNITY 10.05 Decreased By ▼ -0.21 (-2.05%)
WTL 1.29 Decreased By ▼ -0.03 (-2.27%)

سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹو نی بلیئر ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے سب سے پیچیدہ تنازع کو حل کرنے کی کوشش کے لیے سامنے آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں غزہ کے انتظام کے لیے قائم کمیٹی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کی ممکنہ شمولیت نے فلسطینی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں میں حیرت اور ناراضی پیدا کر دی ہے، جبکہ برطانیہ میں لیبر پارٹی کے سالانہ اجلاس میں بھی ان کے کردار پر تنقید سامنے آئی۔

ٹونی بلیئر کی ساکھ عراق پر 2003 کی امریکی قیادت میں ہونے والی جنگ کی حمایت کے باعث سخت متاثر ہو چکی ہے۔ حماس نے ان کا کوئی بھی کردار مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی اپنی قسمت کے خود مالک ہیں اور غیر ملکی سرپرستی قبول نہیں کریں گے۔

ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے میں ٹونی بلیئر کا نام شامل ہے، جس کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم کرنے کے بعد ایک بین الاقوامی ”بورڈ آف پیس“ غزہ کے معاملات دیکھے گا۔ ٹونی بلیئر کے دفتر نے تفصیل دینے سے انکار کیا لیکن اس منصوبے کو جرأت مندانہ اور دانشمندانہ قرار دیا۔

ٹونی بلیئر 2007 میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کے فوراً بعد مشرقِ وسطیٰ کے لیے چار فریقی ایلچی مقرر ہوئے تھے، مگر ان کی کوششیں دو ریاستی حل میں کوئی پیش رفت نہ کر سکیں۔ فلسطینی حلقے آج بھی انہیں اسرائیل نواز سمجھتے ہیں۔

ماہرین اور سابق سفارتکاروں کے مطابق ٹونی بلیئر کی امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قبولیت انہیں منفرد بنا سکتی ہے، جبکہ ناقدین کہتے ہیں کہ ان کا ماضی انہیں ناقابلِ قبول شخصیت بناتا ہے۔

برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کِم جانسن نے کہا کہ بلیئر کی شمولیت قابلِ نفرت اور غلط ہے، کیونکہ امن قائم کرنے کے لیے وہ بالکل درست انتخاب نہیں۔

Comments

Comments are closed.