BR100 Decreased By (-0.22%)
BR30 Decreased By (-0.55%)
KSE100 Decreased By (-0.16%)
KSE30 Decreased By (-0.14%)
BAFL 57.23 Increased By ▲ 0.36 (0.63%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.22 Decreased By ▼ -0.13 (-0.43%)
CNERGY 13.04 Decreased By ▼ -0.08 (-0.61%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 190.00 Decreased By ▼ -2.45 (-1.27%)
FABL 94.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.61 Decreased By ▼ -0.18 (-0.34%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.40 Increased By ▲ 0.30 (0.1%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.45 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
MLCF 92.81 Decreased By ▼ -0.35 (-0.38%)
OGDC 315.22 Decreased By ▼ -1.51 (-0.48%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.48 (-1.35%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 242.50 Decreased By ▼ -0.71 (-0.29%)
PPL 223.75 Decreased By ▼ -3.16 (-1.39%)
PRL 92.30 Decreased By ▼ -0.72 (-0.77%)
SNGP 91.60 Decreased By ▼ -0.24 (-0.26%)
SSGC 23.70 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.42 Decreased By ▼ -0.14 (-0.25%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)

ایران کے مذہبی حکمرانوں کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے سب سے بڑے خطروں میں سے ایک کا سامنا ہے، جہاں ایک طرف مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور دوسری طرف تعطل کا شکار جوہری معاہدہ ملک کو مزید تنہائی اور تقسیم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہفتے کے روز اقوام متحدہ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ آخری کوشش کے طور پر مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

ایرانی حکام اور باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مغرب کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کی معاشی تنہائی مزید گہری ہو گی، جو عوامی غصے کو بڑھا سکتی ہے۔ تاہم مغربی شرائط کو قبول کرنے سے حکومت کے اندرونی اختلافات بڑھنے اور مغربی دباؤ کے آگے نہ جھکنے کے انقلابی نظریے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

اس صورتحال میں ایک اور تشویش اسرائیلی حملوں کے امکانات ہیں۔ جون میں اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں سے شروع ہونے والی 12 روزہ جنگ نے تہران کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کی تو کارروائی میں تاخیر نہیں ہو گی۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں میں ایران کے تیل، بینکاری، دفاعی اور جوہری شعبے شامل ہیں، جبکہ درجنوں شخصیات اور اداروں پر سفری اور مالی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پابندیاں ایران کی کمزور معیشت پر شدید دباؤ ڈالیں گی۔

ایران میں افراطِ زر کی شرح 40 فیصد سے زائد ہے جبکہ اشیائے خورونوش اور رہائش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ عوامی ناراضی بڑھنے پر حکومت کو خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر احتجاج پھوٹ سکتے ہیں جو داخلی اور خارجی سطح پر ایران کی پوزیشن کو مزید کمزور کریں گے۔

Comments

Comments are closed.