BR100 Decreased By (-0.58%)
BR30 Decreased By (-1.07%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 24.98 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 30.13 Decreased By ▼ -0.22 (-0.72%)
CNERGY 12.99 Decreased By ▼ -0.13 (-0.99%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 94.25 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 52.25 Decreased By ▼ -0.54 (-1.02%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.11 Decreased By ▼ -0.45 (-2.3%)
HBL 306.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.03%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 9.96 Decreased By ▼ -0.20 (-1.97%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.16 (-0.6%)
MLCF 91.65 Decreased By ▼ -1.51 (-1.62%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.70 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
PIOC 240.10 Decreased By ▼ -3.11 (-1.28%)
PPL 222.60 Decreased By ▼ -4.31 (-1.9%)
PRL 91.49 Decreased By ▼ -1.53 (-1.64%)
SNGP 90.90 Decreased By ▼ -0.94 (-1.02%)
SSGC 23.32 Decreased By ▼ -0.49 (-2.06%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

صدر آصف علی زرداری نے ہفتہ کے روز کاشغر فری ٹریڈ زون کا دورہ کیا، جو جنوبی سنکیانگ میں اپنی نوعیت کی واحد سہولت اور خطے میں تجارت و لاجسٹکس کا ایک اہم مرکز ہے۔

صدرِ پاکستان کا استقبال کاشغر کے سی پی سی پارٹی سیکریٹری یاو نِنگ نے کیا اور انہیں زون کے 2015 میں قیام کے بعد سے ترقی کے سفر پر بریفنگ دی گئی۔

یہ زون 3.56 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اس میں بانڈڈ ویئر ہاؤسنگ، لاجسٹکس، پروسیسنگ، کسٹمز کلیئرنس اور ایئر فریٹ سروسز شامل ہیں۔ زون کے تجارتی روابط 118 ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں، جہاں سے برآمدات میں الیکٹرک وہیکلز اور بیٹریز سے لے کر سولر سیلز، ہائی ٹیک مصنوعات اور آٹو پارٹس شامل ہیں۔

صدر زرداری کو بتایا گیا کہ زون سڑک، ریل اور فضائی رابطوں کے ذریعے بیک وقت ایشیا اور یورپ سے جڑا ہوا ہے اور اس کا اپنا انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی ہے۔ یہ زون سوست پورٹ (گلگت بلتستان) سے صرف 400 کلومیٹر کے فاصلے پر جبکہ گوادر پورٹ سے 2000 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس کے ذریعے درآمدات اور برآمدات دونوں کی ترسیل ممکن ہے۔

صدرِ مملکت نے مختلف ممالک بشمول وسطی ایشیائی ریاستوں، یورپی ممالک، جنوبی کوریا اور جاپان کے نمائشی اسٹالز اور کیوسک بھی دیکھے۔

مزید بریفنگ میں صدر کو بتایا گیا کہ 2024 میں قائم ہونے والے ڈیجیٹل ٹریڈ سینٹر میں اس وقت 5,400 سے زائد کمپنیاں سرگرم ہیں جبکہ کراس بارڈر ای کامرس ایکزیبیشن سینٹر میں وسطی ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کی ڈیوٹی فری مصنوعات رکھی گئی ہیں۔

صدر زرداری کو ٹو کنٹریز، ٹوئن پارکس منصوبے کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، جس میں ازبکستان کا مجاز انڈسٹریل پارک شامل ہے، جو گودام سے گودام تک صرف 72 گھنٹوں میں ترسیل ممکن بناتا ہے، جبکہ کرغیزستان کی معاونت سے آٹو موبائل اسمبلی اور ایل ای ڈی پروڈکشن کے لیے ایک پارک بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے وزیر سید ناصر حسین شاہ، پاکستان کے سفیر برائے چین اور چین کے سفیر برائے پاکستان بھی صدر کے ہمراہ تھے۔

Comments

Comments are closed.