قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اتوار کے روز عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دوہرا معیار ترک کرے اور اسرائیل کو اس کے جرائم پر سزا دے۔ انہوں نے یہ مطالبہ دوحہ میں عرب اور اسلامی ممالک کے ہنگامی اجلاس سے قبل تیاری اجلاس میں کیا، جو اس وقت بلایا گیا جب اسرائیل نے حماس کے رہنماؤں پر قطر میں فضائی حملہ کیا۔
قطری وزیراعظم نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اسرائیل کو جواب دہ بنائے، کیونکہ ہمارے برادر فلسطینی عوام کو نسل کشی کی جنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کیا جا سکے، لیکن یہ منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق پیر کو ہونے والے اجلاس میں اسرائیل کے قطر پر حملے سے متعلق ایک مسودہ قرارداد پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان، عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی اور فلسطینی صدر محمود عباس کی شرکت متوقع ہے۔ صدر عباس اتوار کو دوحہ پہنچ گئے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان کی آمد کی بھی اطلاع ہے، جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی شرکت کے بارے میں تاحال یقین نہیں، اگرچہ وہ رواں ہفتے قطر کا دورہ کرچکے ہیں۔
قطر خطے میں سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے اور اسرائیل-حماس جنگ میں امریکا اور مصر کے ساتھ اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے کہا کہ تنظیم کو امید ہے یہ اجلاس اسرائیل کے خلاف ”فیصلہ کن اور متحدہ عرب-اسلامی مؤقف“ اور ”واضح اقدامات“ پیدا کرے گا۔

























Comments
Comments are closed.