وفاقی حکومت نے ہفتہ کو ایک اہم انتظامی فیصلے کے تحت فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے ہیڈکوارٹرز کو پشاور، خیبرپختونخوا سے اسلام آباد منتقل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرصدارت اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ ایف سی سمیت وزارت داخلہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرز کی منتقلی کا مقصد فورس کی عملی کارکردگی اور وفاقی سطح پر انتظامی ہم آہنگی کو بہتر بنانا ہے۔
وزیر داخلہ نے چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ اسلام آباد میں نئی عمارت کے لیے موزوں جگہ مختص کریں جو انتظامی اور تربیتی ضروریات پوری کر سکے۔ اس سلسلے میں ماسٹر پلان جلد از جلد پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت ایف سی کو ایک جدید، منظم اور مؤثر فورس میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے 13 جولائی کو فرنٹیئر کانسٹیبلری (ری آرگنائزیشن) آرڈیننس 2025 جاری کیا تھا جس کے تحت ایف سی کو وفاقی کانسٹیبلری میں تبدیل کرنے کا اختیار دیا گیا۔ نئے آرڈیننس کے مطابق فورس کو ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت، عوامی بدامنی، قدرتی آفات اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔
آرڈیننس کے تحت ایف سی کا سربراہ انسپکٹر جنرل ہوگا جس کا تقرر وفاقی حکومت کرے گی۔ نئی تشکیل شدہ ایف سی اب وفاقی ریزرو فورس کے طور پر اسلام آباد پولیس، صوبائی پولیس اور دیگر اداروں کی معاونت کرے گی۔
تاریخی طور پر ایف سی کا قیام سرحدی علاقوں میں امن قائم رکھنے کے لیے عمل میں آیا تھا اور 1975 میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اسے وفاق کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔ اب ایف سی کو قومی سطح پر ایک ہمہ گیر کردار دیا جا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.