پاکستان نے عالمی کرپٹو کرنسی ایکسچینجز اور ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز (وی اے ایس پیز) کو اپنی ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، کیونکہ حال ہی میں قائم کی گئی پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) نے سنگِ میل حیثیت رکھنے والے ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 کے تحت اپنی پہلی ایکسپریشن آف انٹرسٹ (ای او آئی) کی کال کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ اعلان ہفتے کے روز وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی/ وزیرِ مملکت برائے بلاک چین اور کرپٹو کے دفتر کی جانب سے کیا گیا، جو ملک کے تیزی سے پھیلتے لیکن بڑی حد تک غیر ریگولیٹڈ کرپٹو سیکٹر کو باقاعدہ شکل دینے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق پاکستان کی ورچوئل ایسٹ مارکیٹ میں 4 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں جبکہ سالانہ تجارتی حجم 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو اسے دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی فرنٹیئر مارکیٹوں میں شامل کرتا ہے۔
پی وی اے آر اے کے چیئرمین اور وزیرِ مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب نے کہا کہ یہ ای او آئی دنیا کے سرکردہ وی اے ایس پیز کے لیے ہماری دعوت ہے کہ وہ پاکستان کے لیے شفاف اور جامع ڈیجیٹل مالی مستقبل کی تعمیر میں شراکت دار بنیں۔
یہ آرڈیننس 8 جولائی کو نافذ کیا گیا اور اگلے ہی دن پاکستان گزٹ میں شائع ہوا۔ اس کے تحت پی وی اے آر اے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وی اے ایس پیز کو لائسنس دے، ریگولیٹ کرے اور ان کی نگرانی کرے، جبکہ منی لانڈرنگ (اے ایم ایل)، دہشت گردی کی مالی معاونت (سی ایف ٹی) اور سائبر سیکیورٹی پروٹوکولز پر سخت عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ شریعت کے مطابق انوویشن سینڈ باکسز بھی متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ فِن ٹیک کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
اہم ای او آئی معیارات درج ذیل ہیں:
اہل کمپنیاں کم از کم ایک بڑی جُرِسڈکشن (جیسے امریکی ایس ای سی / ایم ایس بی، برطانیہ ایف سی اے، یورپی یونین وی اے ایس پی، یو اے ای وی اے آر اے یا سنگاپور ایم اے ایس) میں لائسنس یافتہ ہوں۔ درخواستوں کے لیے کمپنی پروفائل، لائسنسز، آپریشنز (ٹریڈنگ، کسٹڈی اور سیکیورٹی اقدامات)، زیرِ انتظام اثاثے، کمپلائنس ہسٹری اور پاکستان کے لیے مجوزہ مارکیٹ ماڈلز کی تفصیلات دینا لازمی ہوگا۔
پی وی اے آر اے ایک کثیر فریقین پر مشتمل بورڈ کے تحت کام کرتا ہے جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، ایس ای سی پی اور ایف بی آر کے چیئرمین شامل ہیں۔ اس کا مقصد غیر قانونی مالی سرگرمیوں سے نمٹنا، صارفین کا تحفظ اور فِن ٹیک، ترسیلات اور ٹوکنائزڈ ایسٹس کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اپنی ڈیجیٹل فنانس ریگولیشنز کو ایف اے ٹی ایف، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے معیارات کے مطابق ڈھالنے اور خود کو عالمی بلاک چین انوویشن کا مرکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.