اسٹاک مارکیٹ میں بڑے حصص کی فروخت، 100 انڈیکس 1,700 سے زائد پوائنٹس گر گیا
- جمعے کے روز کاروبار کے دوران 100 انڈیکس میں 1,700 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایس) میں جمعے کے روز مسلسل دوسرے سیشن میں مندی دیکھی گئی، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس شدید فروخت کے دباؤ کے باعث 1,700 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
کاروباری سیشن کے آغاز میں کچھ خریداری دیکھی گئی اور انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 156,519.14 پوائنٹس تک پہنچا۔
تاہم بعد ازاں مارکیٹ میں فروخت کے دباؤ کے باعث سرمایہ کاروں نے منافع حاصل کرنے کو ترجیح دی، جس کے باعث انڈیکس منفی زون میں چلا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,701.56 پوائنٹس (1.09فیصد) کی کمی کے ساتھ 154,439.68 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ کے بعد جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مارکیٹ میں اصلاح (Correction) اس لیے دیکھی گئی کیونکہ لیوریج لاگت (مارجن ٹریڈنگ سسٹم اور فیوچر مارکیٹ) میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1.09 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ منفی اثر ڈالنے والے حصص میں یوبی ایل، ایف ایف سی، اینگرو ہولڈنگز، حبکو اور لکی سیمنٹ شامل تھے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس کو تقریباً 900 پوائنٹس نیچے دھکیلا۔
جمعرات کے روز بھی پی ایس ایکس مندی میں بند ہوئی تھی، جب منافع کے حصول کے باعث سرمایہ کاروں نے فروخت کو ترجیح دی اور اس طرح گزشتہ سیشنز کی تیزی کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 879.55 پوائنٹس یا 0.56 فیصد کمی کے بعد 156,141.25 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعے کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس وال اسٹریٹ کے مثبت رجحان کے ساتھ بلند ہوئیں کیونکہ امریکہ میں شرح سود میں مزید کمی کے امکانات بڑھنے سے عالمی قرض لاگت کم ہونے کی توقعات پیدا ہوئیں۔ اس پیش رفت نے بانڈ مارکیٹس میں دباؤ کو کم کیا اور ڈالر پر بھی اثر ڈالا۔
جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان کے انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے جنہیں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ منافع کی بلند توقعات نے تقویت دی۔
امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) رپورٹ فیڈرل ریزرو کے اگلے ہفتے شرح سود میں کمی کے فیصلے میں حائل آخری بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی تھی، مگر رپورٹ توقعات کے مطابق نکلی۔ خاص طور پر وہ لاگتیں جو فیڈ کی ترجیحی مہنگائی کی پیمائش ’پرنسپل کنزمپشن ایکسپینڈیچر‘ (پی سی ای) میں شامل ہوتی ہیں، نرم رہیں، جس کے بعد سٹی بینک کے ماہرین نے اگست کے لیے 2.9 فیصد کا اندازہ لگایا ہے۔
مارکیٹ اب تقریباً 100 فیصد امکان ظاہر کر رہی ہے کہ اگلے ہفتے فیڈ شرح سود کو ایک چوتھائی فیصد کم کرکے 4.00 فیصد-4.25 فیصد کے درمیان لے آئے گا، جبکہ رواں سال مزید دو کٹوتیوں کا امکان بھی 90 فیصد کے قریب بڑھ گیا ہے۔
امریکی ٹریژری مارکیٹ بھی ان توقعات کے ساتھ نرمی دکھا رہی ہے، جہاں 10 سالہ بانڈ ییلڈز دو ہفتوں میں 20 بیسس پوائنٹس کم ہو چکے ہیں۔ اس کمی نے رہائشی قرضوں کے ریٹس کو بھی نیچے لانے میں مدد دی ہے۔
اس پیش رفت نے یورپ سمیت دیگر بڑے بانڈ مارکیٹس میں دباؤ کو کم کیا ہے، جہاں سیاسی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ہوئے مالیاتی بوجھ تشویش کا باعث ہیں۔
ایشیا میں جاپان کا نکی انڈیکس 0.6 فیصد بڑھ کر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس سے اس ہفتے کا مجموعی اضافہ 3.7 فیصد ہو گیا۔ جنوبی کوریا کا انڈیکس 1.1 فیصد بڑھا اور اس ہفتے کے دوران اس کا مجموعی اضافہ 5 فیصد سے زیادہ رہا۔
چینی اسٹاکس 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ جنوری 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے جبکہ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک (جاپان کے علاوہ) انڈیکس 1.2 فیصد بڑھ گیا۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعے کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ نے اپنا مثبت رجحان برقرار رکھا اور معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسہ بہتری کے بعد 281.55 روپے پر بند ہوا۔ یہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی مسلسل 26ویں بہتری تھی۔
تمام حصص کے مجموعی انڈیکس پر تجارتی حجم کم ہو کر 987.59 ملین شیئرز رہا، جو گزشتہ سیشن میں 1,279.94 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی کم ہو کر 39.91 ارب روپے رہی، جو کہ گزشتہ سیشن میں 50.21 ارب روپے تھی۔
ایف نیٹ ایکوئٹیز 61.99 ملین حصص کے ساتھ سرِفہرست رہا، آغا اسٹیل انڈسٹریز 61.30 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اورپرویز احمد کمپنی 47.22 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
جمعے کے روز مجموعی طور پر 476 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں 180 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 263 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کمی جبکہ 33 کمپنیوں کے نرخ مستحکم رہے۔




















Comments
Comments are closed.