پاکستان 1947 سے اب تک تین بڑے بحرانی ادوار سے گزر چکا ہے: تقسیم کا سانحہ، 1971 کے بعد کا کٹا پھٹا وجود اور 1977 سے جاری عسکری غلبے کا دور۔ مگر 2025 کے تباہ کن سیلاب ایک چوتھے دور کو جنم دے رہے ہیں: بھوک کا بحران۔ آزادی کے بعد پہلی بار سوال یہ نہیں کہ پاکستان پر کون حکومت کرے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان حکمرانی کے قابل بھی رہ گیا ہے؟
پاکستان کو تباہ کرنے والے سیلاب ایک تہذیبی انہدام کے تیسرے باب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ 2010 کے سیلاب نے 2,000 جانیں نگل لیں اور 9.7 ارب ڈالر کا انفرااسٹرکچر تباہ ہو گیا، مگر ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
نہ تو پیشگی آگہی نظام (ارلی وارننگ سسٹمز) پر توجہ دی گئی، نہ حفاظتی بند مضبوط کیے گئے اور نہ ہی اداروں نے ماضی کی غلطیوں کو یاد رکھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صرف بارہ سال بعد سیلاب دوبارہ اسی شدت سے آئے۔ 2022 میں ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا، 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں چند ہی ماہ میں 22 فیصد گر گئی۔
ہماری تیاری کے بجائے ردعمل افسوسناک ہوتا ہے۔ اب 2025 میں جب پنجاب کے تین بڑے دریا( ستلج، چناب اور راوی) ایک ساتھ عروج پر ہیں، تو یہاں تک کہ حکومتی وزرا بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ”پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب“ ہے۔
یہ تباہی دو وجوہات کی بنا پر مختلف ہے۔ ایک طرف بھارت، جو 2010 اور 2022 کے سیلابوں میں کچھ حد تک بہتر حالت میں تھا، اب چار دہائیوں میں سب سے سنگین سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے، اور پنجاب کی 1.48 لاکھ سے 1.75 لاکھ ہیکٹر کی زرعی زمین پانی میں ڈوب چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک ایک ہی محدود عالمی اناج کے ذخیرے کے لیے مقابلہ کریں گے، فوری طور پر نہیں، مگر آنے والے ماحولیاتی صدمے کے ساتھ یہ ناگزیر ہے۔
دوسری بات یہ کہ مون سون کے سیلاب ایسی کشیدگی کے بعد آئے ہیں جس نے بھارت کو زیادہ جارحانہ بنا دیا ہے، اور وہ دریاؤں کے پانی کو اوپر سے قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی وجہ سے پانی کو کنٹرول کرنے والا معاہدہ (سندھ طاس معاہدہ) معطل ہے۔ یوں پہلی بار ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمام ”بھارتی“ دریا مغرب کی جانب بہہ رہے ہیں۔
صرف پاکستانی پنجاب میں ہی دو ملین سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ 4,000 سے زائد گاؤں زیرِ آب آ چکے ہیں۔ یہ بے گھر لوگ ایسے نظام پر انحصار کرتے ہیں جو گوداموں سے ریلیف کیمپوں تک خوراک پہنچانے میں ناکام ہے۔ یو ایس ڈی اے کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل تک پاکستان کے پاس 5 ملین ٹن گندم اسٹاک میں تھی، حالانکہ سیلاب نے اس کے کچھ حصے کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود سیلاب زدگان کو بھوک کا سامنا ہے۔ یہ مسئلہ خوراک کی کمی نہیں، بلکہ خوراک کی نقل و حمل کی ناکامی ہے۔ بحران کے درمیان گندم کی قیمتیں 20 فیصد بڑھ گئی ہیں، حالانکہ نظریاتی طور پر گندم کی وافر مقدار موجود ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ دستیابی بےکار ہے جب تک کہ لاجسٹکس کا نظام درست نہ ہو۔
پاکستان نے 2024/25 میں 31.4 ملین ٹن گندم کی ریکارڈ پیداوار کی، جو سالانہ استعمال کے 31.9 ملین ٹن کے قریب ہے۔ یہ فصل سیلاب سے پہلے ہی تقریباً مکمل ہو چکی تھی۔ اگرچہ سیلاب نے پنجاب کی چاول کی فصل کو 60 فیصد اور گنے کو 30 فیصد نقصان پہنچایا ہے، آئندہ گندم کی فصل کو ایک اور خطرہ لاحق ہے: بارش میں 42 فیصد کمی اور کاشت کی گئی زمین میں 7 فیصد کمی کے باعث 2025/26 میں پیداوار 27.5 ملین ٹن تک رہ سکتی ہے۔
5 ملین ٹن کے اضافی اسٹاک کی بدولت ہمیں صرف 1.7 ملین ٹن گندم درآمد کرنی ہے، جس کی لاگت تقریباً 500 ملین امریکی ڈالر ہو گی۔ اس لحاظ سے، خوش قسمتی سے پاکستان اس سال اپنے ذخیرے پر گزارا کر سکتا ہے۔
یہ بات ضروری ہے کہ ہمارے کسان پہلے ہی مشکلات میں گھِرے ہوئے ہیں۔ 2023-24 میں سابقہ حکومت کے اچانک 3.5 ملین ٹن گندم کی درآمد کے باعث کسانوں کو 380 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ملکی قیمتیں گر گئیں۔ اب وہ 40 کلو گرام گندم کے لیے 2,700 سے 3,200 روپے حاصل کر رہے ہیں، جبکہ پیداواری لاگت 3,200 سے 3,400 روپے کے درمیان ہے، یعنی ہر یونٹ پر نقصان ہو رہا ہے۔
آئی ایم ایف کے دباؤ نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ وہ قیمت کی حد ختم کر دی گئی جس نے سالانہ 5.6 ملین ٹن خرید کو یقینی بنایا تھا۔ کسانوں کو درآمدی اسکینڈل، کم قیمتوں اور حالیہ سیلابی نقصان کے ساتھ اپنی پیداوار کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، بغیر کسی حفاظتی جال کے۔ اس نے کسانوں کو گندم کی کاشت سے ہی باز رکھا ہے۔ اس سال 7 فیصد کمی زمینی کٹاؤ کا اشارہ ہے جو زراعت کے بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ہمارا 5 ملین ٹن کا بفر، جو سیلابی گوداموں میں جزوی طور پر نقصان زدہ ہے، 2026 کے وسط تک محض 2 ملین ٹن رہ جائے گا۔ اگلا سیلاب آتے ہی صورتحال یکسر بدل جائے گی۔ اگر 2025 کی تباہ کاری دہرائی گئی تو پیداوار تقریباً 20 ملین ٹن رہ جائے گی جبکہ استعمال 32.5 ملین ٹن ہو گا۔
ایسی صورت میں درآمدات 10 سے 12 ملین ٹن تک پہنچ جائیں گی، جس کی لاگت 3 سے 3.5 ارب ڈالر ہوگی، جو ہمارے بس کی بات نہیں۔ اس وقت پاکستان اناج کے لیے مقابلہ کر رہا ہے، مگر کل کو بھارت کے ذخیرے بھرنے کے ساتھ ہمیں ہرایک مقابلہ کرنا پڑے گا۔
وقت کسی کا دوست نہیں ہے۔ ہم اس بحران کو کم کرنے میں مکمل ناکام رہے ہیں؛ اب کسی اور موقع کو ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔ اگرچہ ہم 2025/26 میں اپنے ذخیرے سے گزرا کر سکتے ہیں، مگر ابھی کیے جانے والے فیصلے پاکستان کی تقدیر کا تعین کریں گے۔
آج کے انتخاب ( فیصلے) یہ فیصلہ کریں گے کہ کل ہمیں برداشت کے قابل مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا یا قحط کی وبا۔ نومبر 2025 علاقائی اناج معاہدے طے کرنے کا آخری موقع ہے۔ جنوری 2026 تک غیرملکی زرمبادلہ پر دباؤ بڑھ جائے گا کیونکہ معمولی درآمدات کے لیے بھی لیٹر آف کریڈٹ ضروری ہو گا۔
مارچ 2026 میں واضح ہو گا کہ کیا کسان، جنہیں لبرلائزیشن کی کڑی پالیسیوں اور سیلابی نقصان نے متاثر کیا ہے، نئی فصل کاشت کرنے کے قابل ہو پائیں گے یا نہیں۔ تاہم، اصل امتحان اکتوبر 2026 میں آئے گا۔ تب یہ طے ہو گا کہ کیا ہمارے ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ ایک اور بحران کا سامنا کر سکیں، خاص طور پر جب خوراک کے ذخیرے پہلے ہی کم ہو چکے ہوں۔
آج، تمام تر نقصان کے باوجود، پاکستان تاحال اپنی اندرونی تضادات کا بوجھ کسی حد تک اٹھا رہا ہے۔ موجودہ ذخائر کی بدولت ہم بڑے پیمانے پر خوراک کی درآمد سے بچ سکتے ہیں اور ساتھ ہی آئی ایم ایف کی شرائط پر بھی کاربند رہ سکتے ہیں۔ اسی لیے، اس سال ہم فوری قحط سے بچ نکلنے کی پوزیشن میں ہیں۔ لیکن اگر اگلے سال پھر سیلاب آ گیا تو؟ اعداد و شمار واضح بتاتے ہیں کہ پاکستان ایک ساتھ تینوں اہداف حاصل نہیں کر سکتا: کرنسی کا استحکام، خوراک کا تحفظ، اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی۔
ہم اس وقت ایک ایسی ”ناممکن تثلیث“ (امپاسبل ٹرینٹی) کے سامنے کھڑے ہیں جس سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ تین میں سے اگر دو اہداف چنے جائیں، تو تیسرا ریاضیاتی یقین کے ساتھ زمین بوس ہو جائے گا۔
اگر ہم 10 سے 12 ملین ٹن گندم کی خریداری کے لیے قرضوں کی ادائیگیاں معطل کرتے ہیں، تو ریاستی دیوالیہ پن کا خطرہ یقینی ہو جائے گا۔ اگر ہم درآمدات کے لیے پیسہ چھاپتے ہیں اور قرض بھی چکاتے رہتے ہیں، تو آٹے کی قیمتیں شہری علاقوں کی دسترس سے باہر نکل جائیں گی۔ اور اگر ہم زرمبادلہ کے ذخائر اور قرضوں کی ترجیح کو برقرار رکھتے ہیں تو نتیجہ براہِ راست قحط کی صورت میں نکلے گا۔
آئی ایم ایف نے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت زرعی سبسڈی کے خاتمے کی شرط رکھی — اور یہ اقدامات ایسے وقت پر کیے گئے جب موسمیاتی تباہیاں اپنے عروج پر تھیں۔ ہر وہ مہینہ جب ہم ”مارکیٹ اصلاحات“ پر عمل کرتے ہیں، ہم اپنی اگلے بحران سے بچنے کی صلاحیت کو خود تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔
صوبائی محکمہ جاتِ خوراک کا خاتمہ، گندم کی سرکاری خرید سے انخلا، اور امدادی قیمتوں سے دستبرداری — یہ سب آئی ایم ایف کی شرائط ہیں — اور یہ سب طوفان سے پہلے کا طوفان ہیں۔ اگر آئی ایم ایف نے اپنی معاونت واپس لے لی تو پاکستان کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ اور اگر پاکستان مکمل طور پر قرضوں کی ادائیگی اور آئی ایم ایف پالیسیوں پر عمل کرتا رہا تو لاکھوں لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ اس موجودہ فریم ورک میں کوئی قابلِ عمل راستہ موجود نہیں۔
کارروائی کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ دسمبر 2025 سے پہلے، پاکستان کو محفوظ اور متاثرہ گندم کے ذخائر کا تفصیلی نقشہ بنانا ہوگا اور ریلیف کیمپوں تک رسد کے لیے شفاف نظامِ تقسیم مرتب کرنا ہو گا۔
1.7 ملین ٹن گندم کی درآمدات کے معاہدے، موجودہ نرخ ( 290 فی ٹن ڈالر) پر چین یا روس سے حکومتی سطح پر، ادھار ادائیگی کی بنیاد پر لاک کرنے ہوں گے۔
کسانوں کے لیے فوری طور پر ہنگامی قرض سہولت اور 18 ماہ کی واپسی مؤخر کرنا ناگزیر ہے، ورنہ اگلے سیزن کی فصل مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
جنوری 2026 تک، پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر کے موسمیاتی ہنگامی حالات کی شقیں شامل کرنی ہوں گی، تاکہ عارضی طور پر امدادی قیمتیں بحال کی جا سکیں۔ بصورتِ دیگر، زرمبادلہ کا بحران شدت اختیار کر جائے گا۔
تقریباً 500 ملین ڈالر کی گندم درآمد، اربوں کی تعمیرِ نو، اور چاول کی برآمدات میں ہونے والے نقصانات، یہ سب اگلے مون سون سے پہلے ہمارے 19.66 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر کا آدھا حصہ نگل جائیں گے۔ مگر یہ سب بھی صرف عارضی اقدامات ہیں۔
اگر پاکستان نے واقعی قدرتی اور معاشی بحرانوں سے بچنا ہے تو پھر سرسری اصلاحات نہیں، بلکہ انقلابی تبدیلیاں درکار ہیں۔ وہ جاگیردارانہ زرعی نظام، جو کسانوں کو لاگت سے کم قیمت پر گندم بیچنے پر مجبور کرتا ہے، اب موسمیاتی تغیر کے اس دور میں قابلِ برداشت نہیں رہا۔
ہمیں اپنی ترسیلی ڈھانچے ( ڈسٹری بیوشن انفرا اسٹرکچر) کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا۔ جس نظام میں آج گودام سے ریلیف کیمپ تک گندم پہنچانا ممکن نہیں، وہ اگلے بحران میں، جب ذخائر ختم ہو چکے ہوں گے، بری طرح ناکام ہو گا۔
وہی سیاسی نظام جس نے کسانوں کو دیوالیہ ہونے دیا، جس نے درآمدی اسکینڈلز کی اجازت دی اور جس نے سڑکوں پر احتجاج کرتے کسانوں کو لاٹھیاں ماریں ، وہ نظام آنے والے وقت کا سامنا نہیں کر سکتا۔
تین بڑے سیلاب ہماری ریاستی مزاحمت کو پہلے ہی بہا لے جا چکے ہیں۔ اب پیچھے کچھ نہیں بچا۔
فی الحال، قحط کا خطرہ وقتی طور پر ٹل چکا ہے۔ ہمارے گوداموں میں ابھی کچھ گندم موجود ہے، اگرچہ کچھ حصہ پانی سے متاثر ہے اور ہم اُسے بھی تقسیم نہیں کر پا رہے۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا ہم دانستہ طور پر ہر وہ ذریعہ ختم نہیں کر رہے جو کل ہمیں بھوک سے بچا سکتا تھا؟
2025 کے سیلاب نے ”بھوک کی ریاست“ کو جنم نہیں دیا، لیکن اس نے یہ ضرور دکھا دیا کہ پاکستان کتنا قریب پہنچ چکا ہے اس دہانے کے۔
جب اگلا سیلاب آئے گا، ہم جان لیں گے کہ ہم نے اپنی بچ جانے والی صلاحیت کا سودا ایک سال کی مصنوعی استحکام کے عوض کر لیا۔
ریاضی کا حساب سخت ہے، آج کا فاضل ذخیرہ، کل کی گزر بسر، اور پرسوں کا قحط بن جاتا ہے۔ بھوک کی ریاست“ شاید صرف ایک مون سون کی دوری پر ہے اور ہم کچھ بھی نہیں کر رہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.