اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کے ناصر اسپتال پر کیے گئے فضائی حملے میں شہید ہونے والے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے صحافی حملے کا نشانہ نہیں تھے۔
فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداف شوشانی نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ رائٹرز اور اے پی کے صحافی اس حملے کا ہدف نہیں تھے، اور فوج کے سربراہ نے اس فیصلے کے عمل پر مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
پیر کو غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس میں واقع ناصر اسپتال پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 20 افراد شہید ہوئے، جن میں رائٹرز، اے پی، الجزیرہ اور دیگر عالمی اداروں کے صحافی شامل تھے۔ حملے کے وقت رائٹرز کا براہِ راست ویڈیو فیڈ، جو کیمرہ مین حسام المصری چلا رہے تھے، اچانک بند ہوگیا۔ وہ اسی حملے میں شہید ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے تحریری بیان میں کہا گیا کہ چھ فلسطینی جنگجو مارے گئے جن کا تعلق حماس اور اسلامی جہاد سے تھا، تاہم شہید صحافی ان میں شامل نہیں تھے۔ بیان میں تسلیم کیا گیا کہ اجازت کے عمل، ہتھیار کے انتخاب اور موقع پر فیصلہ سازی میں کئی خلا تھے جن کی تحقیقات کی جائیں گی۔
دوسری جانب حماس نے اسرائیلی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ہلاک شدگان میں بعض افراد کو غلط طور پر جنگجو قرار دیا ہے۔
اس حملے میں رائٹرز کے حسام المصری کے ساتھ اے پی کی فری لانس صحافی مریم ابو دغہ، الجزیرہ کے محمد سلامہ، فری لانس صحافی معاذ ابو طحہ اور مڈل ایسٹ آئی کے احمد ابو عزیز شہید ہوئے۔ رائٹرز کے فوٹوگرافر حاتم خالد زخمی ہوئے۔
رائٹرز اور اے پی نے اسرائیلی حکام کو لکھے خط میں مطالبہ کیا کہ تحقیقات شفاف اور فوری ہونی چاہییں، کیونکہ یہ صحافی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھا رہے تھے اور ان کی شہادت جواب دہی کا تقاضا کرتی ہے۔

























Comments
Comments are closed.