غزہ میں اسرائیلی بمباری کے دوران پیر کے روز رائٹرز کے صحافی حسام المصری شہید ہو گئے۔ 49 سالہ المصری ناصر اسپتال خان یونس میں براہِ راست نشریات کے دوران نشانہ بنے۔ وہ خود خیمے میں رہائش پذیر تھے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے خوراک کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔
حسام المصری اپنے مثبت رویے اور بہادری کے باعث ساتھی صحافیوں میں مقبول تھے۔ ان کے قریبی ساتھی محمد سالم کے مطابق وہ اکثر کہتے تھے: کل بہتر ہوگا۔
رائٹرز کی ایڈیٹر انچیف الیساندرا گیلونی نے کہا کہ حسام دنیا کو غزہ کی کہانی سنانے کے لیے انتہائی پرعزم تھے۔ ان کی لاش ان کے کیمرے کے ساتھ اسپتال کی سیڑھیوں پر ملی جہاں وہ براہِ راست نشریات کر رہے تھے۔ اسی مقام پر دوسرا دھماکہ بھی ہوا جس میں کم از کم 19 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں امدادی کارکن اور دیگر صحافی بھی شامل تھے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ صحافی حملے کا نشانہ نہیں تھے جبکہ وزیراعظم نیتن یاہو نے اسے المناک حادثہ قرار دیا۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق اس جنگ میں اب تک 189 فلسطینی صحافی شہید ہو چکے ہیں۔ حسام کی اہلیہ کو کینسر لاحق تھا اور وہ انہیں علاج کے لیے غزہ سے باہر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے چار بچے ہیں۔
المصری 1998 سے صحافت سے وابستہ تھے اور مئی 2024 میں رائٹرز کے ساتھ بطور کانٹریکٹر شامل ہوئے۔ انہوں نے ناصر اسپتال اور رفح سے انسانی المیے کی کہانیاں دنیا تک پہنچائیں۔ ان کی آخری رپورٹ میں فضائی حملے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ کے غم کو دکھایا گیا تھا۔ حسام کا کہنا تھا کہ ان کا کیمرہ صرف سچ دکھاتا ہے، چاہے وہ فلسطینی ہوں یا اسرائیلی۔

























Comments
Comments are closed.