نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے دریائے راوی کے لیے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران سیلابی الرٹ جاری کرتے ہوئے درمیانے درجے کے خطرے کی نشاندہی کی ہے۔
ہائڈرولوجیکل ڈیٹا کے مطابق دریائے راوی اور اس سے منسلک نالوں کے کیچمنٹس میں مسلسل معتدل سے شدید بارشوں کے باعث تھین ڈیم میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، جو 1,717 فٹ (اپنی گنجائش کا 86 فیصد) تک پہنچ گیا ہے۔
تھین ڈیم سے پانی کے اخراج کے ساتھ بھارتی جانب نالوں میں بڑھتے ہوئے اخراج سے دریائے راوی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
اس کے نتیجے میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران پیر پنجال رینج سے نکلنے والے نالوں، خصوصاً بین، بسنتر اور ڈیک میں درمیانے سے اونچے درجے کے بہاؤ کی توقع کی جا رہی ہے۔
فی الوقت دریائے راوی کوٹ نیناں کے مقام پر 64,000 کیوسک پانی خارج کر رہا ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جاسر پر نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب پیدا کرسکتا ہے۔ اگر ڈیم سے اضافی پانی چھوڑا گیا اور بارش کا سلسلہ 27 اگست تک جاری رہا تو یہ صورتحال بلند درجے کے سیلاب میں بھی بدل سکتی ہے۔
دریائے راوی اور اس کے نالوں کے کنارے واقع نشیبی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چوکس رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سیلاب سے متعلق سرکاری وارننگز کو ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے باقاعدگی سے فالو کریں۔
مقامی حکام انخلا کی ہدایات جاری کرسکتے ہیں، اس لیے عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ راستوں کی نشاندہی کریں اور اپنے گھریلو قیمتی سامان، مویشیوں اور زرعی اثاثوں کو محفوظ بنائیں۔ کمیونٹیز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ 3 سے 5 دن کے لیے خوراک، پانی اور ادویات پر مشتمل ایمرجنسی کٹس تیار رکھیں اور ہرگز کسی کاز وے، نچلے پل یا سیلابی راستے کو عبور نہ کریں۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ حکام اور ریسکیو سروسز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہائی الرٹ پر رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال پر بروقت ردعمل دیا جا سکے۔
این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ وہ این ای او سی کے ذریعے صورتحال کی قریبی نگرانی کر رہا ہے اور بروقت اقدامات اور تیاری کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ رابطے میں ہے۔






















Comments
Comments are closed.