امریکی اور یورپی فوجی حکام نے یوکرین کے لیے ممکنہ بعد از جنگ سکیورٹی ضمانتوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ کسی بھی امن معاہدے کے تحت واشنگٹن یوکرین کے تحفظ میں کردار ادا کرے گا۔
امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون اس حوالے سے مختلف منصوبہ بندی کی مشقیں کر رہا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ ہتھیاروں کی فراہمی کے علاوہ واشنگٹن کس طرح یوکرین کی سکیورٹی میں مدد کر سکتا ہے۔ ایک تجویز یہ ہے کہ یورپی افواج کو یوکرین بھیجا جائے مگر ان کی کمان اور کنٹرول امریکہ کے سپرد ہو۔ یہ فورسز نیٹو کے جھنڈے تلے نہیں بلکہ اپنے اپنے ممالک کے پرچم کے تحت کام کریں گی۔
صدر ٹرمپ نے امریکی زمینی فوج کو یوکرین بھیجنے کے امکان کو رد کر دیا ہے تاہم انہوں نے فضائی مدد فراہم کرنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک زمینی فوج بھیجنے پر آمادہ ہیں جبکہ امریکہ خاص طور پر فضائی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ اس ممکنہ تعاون میں مزید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی یا امریکی لڑاکا طیاروں کے ذریعے نو فلائی زون نافذ کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب روس نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی امن معاہدے کے تحت نیٹو ممالک کے فوجی دستوں کی یوکرین میں تعیناتی کو قبول نہیں کرے گا۔
اس دوران نیٹو کے فوجی سربراہان بدھ کو ورچوئل اجلاس میں یوکرین کی صورتحال پر غور کریں گے۔ امریکی جنرل ڈین کین بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ تیزی سے جنگ ختم کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم خدشہ ہے کہ وہ یوکرین پر روس کے شرائط تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ یوکرین اور اس کے اتحادی روسی حملے کو زمین ہتھیانے کی کوشش قرار دیتے ہیں جبکہ ماسکو اسے اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘ قرار دیتا ہے۔

























Comments
Comments are closed.