ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ سی اے آر)، جو ہونڈا موٹر کمپنی لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے، جلد پاکستان میں اپنا ہائبرڈ ماڈل متعارف کرانے جا رہی ہے، جس میں ہونڈا سینسنگ نامی جدید ڈرائیور اسسٹنس ٹیکنالوجی بھی شامل ہوگی۔
ایچ سی اے آر کے صدر اور سی ای او ماسایا واکُدا نے یہ اعلان کمپنی کی سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) کے دوران کیا۔
شیئر ہولڈرز کی جانب سے موجودہ ہونڈا ماڈلز میں ہائبرڈ آپشن نہ ہونے کے حوالے سے سوالات کے جواب میں واکُدا نے کہا کہ ہونڈا عالمی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں، ہائبرڈ ٹیکنالوجی میں پیش پیش رہی ہے اور اب وہ اس مہارت کو پاکستان میں بھی متعارف کرانا چاہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے ہائبرڈ ماڈل میں جدید ہونڈا سینسنگ ٹیکنالوجی بھی شامل ہوگی۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب حریف کمپنیوں، بشمول ٹویوٹا پاکستان، نے ہائبرڈ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے منصوبے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ٹویوٹا نے حال ہی میں جنوبی ایشیائی ملک میں آئندہ چند سالوں میں 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
ای جی ایم کے دوران شیئر ہولڈرز نے حکومت کے فیصلے پر بھی تشویش ظاہر کی کہ پاکستان میں پانچ سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے۔
چیئرمین کمپنی نے بتایا کہ پرانی گاڑیوں کی تجارتی بنیاد پر درآمد مخصوص شرائط کے تحت ممکن ہے اور نئی پالیسی سے اضافی محصول حاصل ہونے اور ری کنڈیشن شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ متوقع ہے۔
ریگولیٹری حوالے سے ہونڈا انتظامیہ نے کہا کہ موجودہ آٹوموبائل پالیسی جون 2026 تک نافذ رہے گی۔
حکومت نے ای وی اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے موجودہ اندرونی دہن والے انجن (ICE) پر 1 سے 2 فیصد کاربن ٹیکس عائد کیا ہے، جبکہ بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 8.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستان نے طویل انتظار کے بعد نئی توانائی گاڑی (این ای وی) پالیسی 2025–30 متعارف کرائی جس کا مقصد ایندھن پر انحصار کم کرنا اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا ہے۔
یہ اقدام نہ صرف پاکستان میں جدید ہائبرڈ اور الیکٹرک ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اہم ہے بلکہ ملکی آٹوموبائل صنعت میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور ماحولیاتی بہتری میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔






















Comments
Comments are closed.