پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) نے اتوار کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں شدید سیلاب سے ہلاکتیں 300 سے تجاوز کر گئی ہیں، جس میں سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل اسفندیار خٹک نے پشاور میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ صرف بونیر میں 213 افراد ہلاک اور 126 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 156 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بونیر میں کم از کم 1500 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، اور شانگلہ میں بھی اسی طرح کے خدشات ہیں۔ مسلسل بارشوں کی وجہ سے ہیلی کاپٹر آپریشنز میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اسفندیار خٹک نے مزید کہا کہ حکومت نے ریلیف کے اقدامات کے لیے بونیر ضلعی انتظامیہ کو 500 ملین روپے مختص کیے ہیں، جبکہ 54 ٹرک خوراک اور ریلیف اشیا بھیجے جا چکے ہیں،صوبے کے تمام اضلاع ہائی الرٹ پر ہیں۔
ریسکیو حکام نے صوبے میں جاری آپریشنز کی تازہ صورتحال بھی بتائی۔ ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل طیب عبداللہ نے کہا کہ اب تک 300 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں اور 510 افراد سیلابی پانی سے زندہ بچائے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دریا کے کناروں پر 176 ریسکیو یونٹس اور 60 ایمرجنسی پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں 1,800 اہلکار اور 264 غوطہ خور تعینات کیے گئے ہیں۔ بونیر میں ملبہ ہٹانے کے لیے اضافی طور پر 60 ریسکیو اہلکار بھی بھیجے گئے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.