مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے چیئرمین کبیر احمد سدھو نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو چینی کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دینے میں درپیش چیلنجز اور حالیہ چینی بحران کی وجوہات سے آگاہ کیا ہے۔
سی سی پی کے جاری کردہ بیان کے مطابق چیئرمین کبیر احمد سدھو نے وزیر خزانہ کو بتایا ہے کہ شوگر سیکٹر ریفارم کمیٹی کی معاونت کے لیے کمیشن مفصل سفارشات تیار کر رہا ہے۔
انہوں نے ماضی میں چینی کے شعبے میں پیدا ہونے والے بحرانوں، بالخصوص 2008-09، 2015-16 اور 2019-20، کی وجوہات، کمیشن کی تحقیقات اور کارٹیل سازی کے خلاف لیے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی۔
بیان کے مطابق چیئرمین سی سی پی نے چینی کے شعبے میں غیر مسابقتی رویوں کے خلاف کمیشن کی انفورسمنٹ ایکشنز سے بھی وزیر خزانہ کو آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے 2021 کے شوگر کارٹیل کے خلاف حکم کو کمپیٹیشن اپیلٹ ٹربیونل نے دوبارہ سماعت کے لیے کمیشن کو واپس بھیج دیا ہے، اور کمیشن نے اس کیس کی جلد از جلد تکمیل کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔
سی سی پی کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے کمیشن کو زیر التواء مقدمات کی جلد سماعت اور ادارے کی عملی صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ایک موثر مسابقتی نظام صارفین کے مفادات کے تحفظ، مارکیٹ میں شفافیت کے فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
ملاقات کے دوران زیر التواء عدالتی مقدمات کا جائزہ لیا گیا، چینی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے انتظامی و ضابطہ جاتی اقدامات پر غور ہوااور سی سی پی کی ادارہ جاتی استعداد بڑھانے سے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ اقتصادی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے، صارفین کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو اور ملک میں شفاف اور مسابقتی کاروباری ماحول یقینی بنایا جا سکے۔






















Comments
Comments are closed.