پاکستان اور عراق نے گوادر (پاکستان) اور ام قصر (عراق) کی بندرگاہوں کے درمیان سمندری فیری سروس شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کا مقصد دو طرفہ بحری تعاون کو فروغ، تجارت کو وسعت دینا اور مذہبی سیاحت کو آسان بنانا ہے۔
یہ پیش رفت وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری اور عراقی سفارتخانے کے نائب سربراہ عبدالقادر سلیمان الحمیری کی قیادت میں آئے ہوئے تین رکنی وفد کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مفاہمت کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک ”نئے باب“ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر بحری امور جنید چوہدری نے کہا کہ مسافروں اور مال بردار فیری روابط نہ صرف اقتصادی تعلقات کو آگے بڑھا سکتے ہیں بلکہ زیارات پر جانے والے زائرین کو بھی سہولت فراہم کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان، گوادر فری زون میں قائم پوٹاشیم سلفیٹ کی تیاری کی سہولت کے ذریعے عراق کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے آئندہ انتخابات میں پاکستان کی حمایت کے لیے عراق سے تعاون کی درخواست بھی کی۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے ادویات، گوشت اور چاول کی عراق کو برآمدات بڑھانے جبکہ عراقی تیل کی پاکستان درآمدات میں اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 میں پاکستان کی عراق کو برآمدات 54.29 ملین ڈالر رہیں جبکہ درآمدات، جن میں زیادہ تر پٹرولیم مصنوعات شامل تھیں، 145.46 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ مجوزہ فیری سروس، ایران اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ پہلے سے جاری بحری منصوبوں کا تکمیلی حصہ ہوگی، اور اسے پاکستان کی ”بلیو اکانومی اسٹریٹجی“ کے تحت ایک علاقائی بحری نیٹ ورک کی بنیاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عراقی نائب سفیر عبدالقادر سلیمان الحمیری نے ان تجاویز کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے سمندری نقل و حمل کو مستقبل میں باہمی تعاون کا ”کلیدی ذریعہ“ قرار دیا۔ دونوں جانب سے فیری سروس کی سرمایہ کاری ضروریات اور عمل درآمد کے امکانات جانچنے کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
حکام کے مطابق گزشتہ برس عاشورہ کے موقع پر 88,000 سے زائد پاکستانی زائرین نے عراق کا سفر کیا، جو اس بات کا مظہر ہے کہ زائرین اور تاجروں دونوں کے لیے باقاعدہ سمندری روٹس کی مانگ موجود ہے۔
اگر اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی تو نہ صرف نقل و حمل کی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ لاجسٹکس میں بہتری، عراقی منڈیوں کی ایشیائی خطے تک رسائی میں اضافہ اور دو طرفہ تجارت کو فروغ بھی حاصل ہو گا۔























Comments
Comments are closed.