BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

ایک 73 سالہ پاکستانی نژاد اخبار فروش، جو گزشتہ 50 برسوں سے پیرس کے فیشن ایبل علاقے لاطینی کوارٹر کے کیفے اور ریستورانوں کے سامنے اخبارات بیچتے آ رہے ہیں، کو فرانس کے سب سے باوقار اعزازات میں سے ایک سے نوازا جائے گا۔

علی اکبر نے 1973 میں فرانس منتقل ہونے کے بعد اخبار فروشی شروع کی۔ وہ اپنی زندہ دلی، حسِ مزاح اور توانائی کی بدولت مقامی افراد کو اپنا گرویدہ بناتے رہے اور اخبار فروشی کے گرتے ہوئے رجحان کے باوجود اپنی جگہ بنائے رکھی۔

ستمبر میں، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون انہیں ”نیشنل آرڈر آف میرٹ“ کا نائٹ (سر) کا اعزاز عطا کریں گے، جو کہ فرانس کی شہری یا عسکری خدمات پر دیا جانے والا ایک نمایاں اعزاز ہے۔

علی اکبر نے ہنستے ہوئے دی نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ”شاید اس سے مجھے میرا فرانسیسی پاسپورٹ ہی مل جائے!“

راولپنڈی (شمالی پاکستان) کے رہائشی علی اکبر 1970 کی دہائی کے اوائل میں بہتر زندگی کی تلاش میں وطن سے نکلے۔ ان کا سفر افغانستان، ایران اور یونان سے ہوتا ہوا فرانس تک پہنچا، جیسا کہ گلف نیوز نے رپورٹ کیا۔

ابتدائی سالوں میں انہوں نے مشکل حالات جھیلے — چھوٹے موٹے کام کیے، تعصب کا سامنا کیا اور یہاں تک کہ کئی مرتبہ پلوں کے نیچے بھی سونا پڑا۔ وقت کے ساتھ انہوں نے ایک اخباری اسٹال سنبھالا اور آہستہ آہستہ اپنی زندگی کو سنوارا۔

علی اکبر نے بتایا کہ ”میں وہ کپڑے نہیں پہننا چاہتا تھا جن سے بدحالی کی بو آئے۔ میرا خواب تھا کہ میں اپنی ماں کو ایک باغ والا گھر دوں۔“

انہوں نے ابتدا میں سوربون یونیورسٹی اور اردگرد کے اداروں کے طلبہ کو طنزیہ ہفت روزہ ”چارلی ایبدو“ بیچنا شروع کیا۔

1970 کی دہائی میں ہی پیرس میں سڑکوں پر اخبارات بیچنے والے افراد کی تعداد کم ہو رہی تھی کیونکہ ٹیلی ویژن نے خبروں کا بنیادی ذریعہ بننا شروع کر دیا تھا، اور بعد ازاں انٹرنیٹ نے اس تبدیلی کو مزید تیز کر دیا۔

لیکن علی اکبر، جو آج بھی پیرس کی گلیوں میں اخبارات بیچنے والے آخری شخص ہیں، نے اپنی مسکراہٹ، ہنسی مذاق اور خلوص کی بدولت اس روایت کو زندہ رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”مجھے کاغذ کا لمس پسند ہے۔ مجھے ٹیبلٹس وغیرہ پسند نہیں۔ مگر پڑھنے کا شوق ہے – اصلی کتابیں۔ اسکرین پر کبھی نہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”اخبار بیچنے کا میرا اپنا انداز ہے۔ میں مزاح کرتا ہوں تاکہ لوگ ہنسیں۔ میں مثبت رہنے کی کوشش کرتا ہوں اور ایسا ماحول پیدا کرتا ہوں کہ لوگ محض خریداری نہیں کرتے، بلکہ دل سے جڑتے ہیں، جیب سے نہیں۔“

تاہم، ڈیجیٹل دور میں یہ کام بہت مشکل ہو چکا ہے۔

”میں آٹھ گھنٹے میں صرف 20 کاپیاں لی مونڈ کی بیچ پاتا ہوں۔ سب کچھ ڈیجیٹل ہو گیا ہے۔ لوگ اب اخبارات نہیں خریدتے۔“

ان تمام چیلنجز کے باوجود، علی اکبر نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک صحت اجازت دے، وہ اخبارات بیچتے رہیں گے۔

آج جب پرانے کتاب فروشوں کی جگہ مہنگے فیشن اسٹورز اور ریستورانوں نے لے لی ہے، لاطینی کوارٹر کے باسی کہتے ہیں کہ علی اکبر ان چند عناصر میں سے ایک ہیں جو اس علاقے کی اصل روح کو زندہ رکھتے ہیں۔

ان کا تعلق آج بھی سادگی سے جڑا ہوا ہے، وہ پاکستان میں اپنے اہلِ خانہ کو مالی مدد بھیجتے ہیں اور فرانس میں اپنے بنائے گئے زندگی سے خوش ہیں۔

1980 میں علی اکبر نے شادی کی، اور ان کے پانچ بیٹے ہیں، جن سب کو انہوں نے فرانس میں تعلیم دلوائی — جس پر وہ بے حد شکر گزار ہیں۔

ایک مقامی گاہک ماری-لور کاریئر کہتی ہیں کہ ”علی ایک ادارہ ہیں۔ میں روز ان سے لی مونڈ خریدتی ہوں۔ بلکہ ہم صرف اخبار ہی نہیں لیتے، کبھی ان کے ساتھ کافی پیتے ہیں، کبھی دوپہر کا کھانا بھی۔“

Comments

Comments are closed.