وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز حالیہ مون سون بارشوں سے متاثرہ گلگت بلتستان کے علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جانی و مالی نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماحولیاتی تبدیلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن اس کے باوجود سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں نقصانات، امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو گورنر سید مہدی شاہ اور وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے تباہ کن اثرات پر بریفنگ دی۔
شہباز شریف نے متاثرہ سیاحوں اور مقامی آبادی سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس صورتحال کو قومی سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چاہے وہ دیامر ہو یا گانچھے، پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تباہی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو فوری طور پر قومی حکمت عملی تشکیل دینے اور بین الاقوامی فنڈز کے حصول کی ہدایت کی۔ انہوں نے جدید موسم کی پیشگوئی، قدرتی آفات سے نمٹنے اور امدادی تیاریوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کا حکم بھی دیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 21 جولائی کو ہونے والے کلاؤڈ برسٹ سے سیاحوں اور مقامی افراد کو شدید نقصان پہنچا۔ 600 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا اور متاثرہ شاہراہوں کو جلد کھول دیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نقصان کا مکمل سروے کیا جائے، رابطہ بحال کیا جائے اور امدادی اداروں میں مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔
وفاقی وزراء عبدالعلیم خان، عطا تارڑ، امیر مقام اور مصدق ملک بھی اجلاس میں موجود تھے۔

























Comments
Comments are closed.