BR100 Increased By (0.01%)
BR30 Decreased By (-1.15%)
KSE100 Increased By (0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.05%)
BAFL 58.00 Increased By ▲ 0.23 (0.4%)
BIPL 23.28 Increased By ▲ 0.13 (0.56%)
BOP 28.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.99%)
CNERGY 12.28 Decreased By ▼ -1.36 (-9.97%)
DFML 15.05 Decreased By ▼ -0.36 (-2.34%)
DGKC 182.50 Increased By ▲ 4.35 (2.44%)
FABL 92.48 Increased By ▲ 1.08 (1.18%)
FCCL 53.85 Increased By ▲ 1.57 (3%)
FFL 12.79 Decreased By ▼ -0.11 (-0.85%)
GGL 18.20 Decreased By ▼ -0.81 (-4.26%)
HBL 285.00 Decreased By ▼ -6.55 (-2.25%)
HUBC 195.45 Increased By ▲ 2.27 (1.18%)
HUMNL 8.50 Decreased By ▼ -0.07 (-0.82%)
KEL 5.64 Decreased By ▼ -0.15 (-2.59%)
LOTCHEM 23.60 Decreased By ▼ -0.29 (-1.21%)
MLCF 92.03 Increased By ▲ 1.52 (1.68%)
OGDC 302.42 Decreased By ▼ -4.36 (-1.42%)
PAEL 31.75 Decreased By ▼ -0.58 (-1.79%)
PIBTL 12.80 Decreased By ▼ -0.13 (-1.01%)
PIOC 235.99 Increased By ▲ 2.85 (1.22%)
PPL 211.50 Decreased By ▼ -2.43 (-1.14%)
PRL 87.26 Decreased By ▼ -9.70 (-10%)
SNGP 89.70 Decreased By ▼ -0.83 (-0.92%)
SSGC 22.77 Increased By ▲ 0.24 (1.07%)
TELE 6.49 Decreased By ▼ -0.23 (-3.42%)
TPLP 12.15 Decreased By ▼ -0.45 (-3.57%)
TRG 51.75 Decreased By ▼ -0.21 (-0.4%)
UNITY 7.66 Decreased By ▼ -0.13 (-1.67%)
WTL 0.95 Increased By ▲ 0.01 (1.06%)

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے جمعرات کی شب صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے درپیش اختلافات فوری طور پر حل نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کے پیچھے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی عوامل کارفرما ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ اسی دن انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ جمعہ سے بھارت سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 25 فیصد محصول عائد کرے گا۔

یہ شرح دیگر بڑے تجارتی شراکت داروں کی نسبت بھارت کو خاص طور پر سختی سے نشانہ بناتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مہینوں سے جاری مذاکرات متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہ قدم نہ صرف امریکہ کے ایک اہم تزویراتی شراکت دار کو کمزور کرسکتا ہے بلکہ چین کے خلاف توازن قائم کرنے کی امریکی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اہم اقتباسات

امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہمارے بھارت کے ساتھ مسائل ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ وہ ایک بند مارکیٹ ہے اور متعدد جغرافیائی سیاسی امور بھی درپیش ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے صدر کو بی آر آئی سی ایس کی رکنیت، روسی تیل کی خریداری اور اس جیسے دیگر معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے دیکھا ہوگا۔

اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری ہے لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ تعلقات اور معاملات دونوں نہایت پیچیدہ ہیں، اس لیے میرے خیال میں بھارت کے ساتھ یہ معاملات راتوں رات حل نہیں ہو سکتے۔

سیاق و سباق

روس کے 2022 کے اوائل میں یوکرین پر حملے کے بعد بھارت کو مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ، کی جانب سے ماسکو سے فاصلہ رکھنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم نئی دہلی نے اس دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات اور مخصوص اقتصادی ضروریات ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

صدر ٹرمپ نے ترقی پذیر ممالک کے بلاک ”بی آر آئی سی ایس“، جس میں بھارت ایک کلیدی رکن ہے کو امریکہ مخالف قرار دیا ہے۔

بی آر آئی سی ایس ممالک نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا گروپ اپنے ارکان اور ترقی پذیر دنیا کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔

علاوہ ازیں، ٹرمپ نے بھارت کو اس وقت ناراض کیا جب انہوں نے 10 مئی کو سوشل میڈیا پر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا اور اس کا مکمل کریڈٹ خود لے لیا۔

Comments

Comments are closed.