پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے 9 مئی کے مقدمات میں ضمانت کی درخواست منسوخ کرنے کے لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) کے حکم کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
سابق وزیراعظم نے ہفتہ کے روز اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے اپیل دائر کی، جس میں وفاقی حکومت اور گلبرگ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر عمران صادق کو فریق بنایا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) لاہور نے 27 نومبر 2024 کو جناح ہاؤس پر حملے سمیت 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق آٹھ الگ الگ مقدمات میں عمران خان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
گزشتہ ماہ جسٹس شہباز علی رضوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد قید سابق وزیراعظم کی ضمانت کی درخواستیں بھی خارج کر دی تھیں۔
سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کا 9 مئی کے تشدد یا آتش زنی کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اس وقت نیب کی حراست میں تھے اور بعد میں انہوں نے کھلے عام ان واقعات کی مذمت کی۔ لہٰذا ان کا ان فسادات میں ملوث ہونا ناممکن ہے۔ انہوں نے استغاثہ کے بیانات میں تضادات کی بنیاد پر مقدمے پر شکوک کا اظہار کیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ایف آئی آر میں ناکافی شواہد موجود ہیں اور ان پر فسادات میں ملوث ہونے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے خلاف الزامات سیاسی انتقام پر مبنی ہیں اور وفاقی حکومت اپنا مؤقف بار بار بدل رہی ہے، جو کرکٹ کی اسٹریٹجی کی طرح ہے جس میں کنفیوژن پیدا کرنے والی گیندیں، گوگلی اور آف بریک شامل ہیں۔
وکیل کے مطابق حکومت کو اسی نوعیت کے مقدمات میں پہلے ہی کئی قانونی فیصلوں میں شکست ہو چکی ہے، اور انہوں نے اپنے مؤقف کے حق میں تقریباً 25 عدالتی فیصلے پیش کیے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ تمام مقدمات میں شکایت کنندہ پولیس اہلکار ہیں۔
درخواست گزار نے مقدمے کی مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا کیونکہ ان کے مطابق پولیس نے بدنیتی کے تحت انہیں پانچ ماہ تک گرفتار کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ان کے خلاف شواہد ناکافی ہیں جبکہ دیگر شریک ملزمان کو پہلے ہی ضمانت دی جا چکی ہے۔
انہوں نے پولیس کے تاخیر سے ریکارڈ کرائے گئے بیانات کو ناقابلِ اعتماد قرار دیا اور کہا کہ انہیں ضمانت کا حق حاصل ہے۔
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کے واقعات کا تعلق پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے احاطے سے ایک کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد شروع ہونے والے فسادات سے ہے۔
احتجاج کے دوران شرپسندوں نے سول اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس اور راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) شامل ہیں۔
پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے، جبکہ متعدد اب بھی جیل میں ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.