وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے تیزی سے ترقی پذیر صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون کے مواقع کو بروئے کار لائیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق بیجنگ میں منعقدہ گلوبل ہیلتھ فورم میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جدت، سرمایہ کاری اور تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
وزیرِصحت نے عالمی شراکت داروں کو سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان منافع بخش سرمایہ کاری، شفاف اور موثر ریگولیٹری نظام اور حکومتی تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مصطفیٰ کمال نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ پاکستان عالمی صحت کے میدان میں شراکت داری کے لیے تیار ہے، 25 کروڑ کی بڑی آبادی، نرسنگ کے شعبے میں تعاون، اور ڈیجیٹل اصلاحات ہمارے اہم اثاثے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کی ترقی صحت کے بغیر ممکن نہیں۔
اپنے خطاب میں وزیرِ صحت نے بتایا کہ حال ہی میں شروع کیے گئے میڈیکل ڈیوائسز کے لیے ڈیجیٹل لائسنسنگ اور رجسٹریشن کا نظام اب صرف 20 دن میں لائسنسنگ کا عمل مکمل کرے گا۔
چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اس نظام کا افتتاح کیا اور اسے صحت کے شعبے میں اصلاحات اور شفافیت کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملک کے صحت کے شعبے میں انقلاب لانا ایک مشکل مگر ممکنہ کام ہے جو اجتماعی کوشش سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم جو سابقہ اتحاد حکومت کے دوران شروع کیا گیا تھا، میڈیکل ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں کو آن لائن لائسنسنگ کے لیے دستاویزات جمع کرانے اور صرف 2.0 دن میں منظوری حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔
یہ تبدیلی سالوں پر محیط تاخیر کو نمایاں طور پر کم کردیتی ہے جو وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق، پہلے بدعنوانی اور نااہلی کو فروغ دیتی تھیں۔






















Comments
Comments are closed.