پاکستان نے جمعہ کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری قائم کرنے کی غیر قانونی کوشش کی سخت مذمت کی۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ یہ افسوسناک اقدام بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق اور قائم شدہ بین الاقوامی اصولوں کی اسرائیل کی مسلسل بے توقیری کی عکاسی کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایسے جان بوجھ کر کیے گئے اشتعال انگیز اقدامات قابض طاقت کی امن قائم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے اور اپنی غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کی منظم کوششوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق یہ یکطرفہ اقدامات خطرناک بگاڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جو علاقائی استحکام اور ایک منصفانہ اور دیرپا تصفیے کے امکانات کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد، جو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی سرزمین پر حماس کے بے مثال حملے سے بھڑکی تھی، مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی گنتی کے مطابق اس دوران اسرائیلی فوجیوں یا آبادکاروں کے ہاتھوں کم از کم 960 فلسطینی — جن میں جنگجو اور عام شہری شامل ہیں — شہید ہو چکے ہیں۔
اسی عرصے میں، سرکاری اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق، فلسطینی حملوں یا اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کم از کم 36 اسرائیلی — بشمول عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار — ہلاک ہوئے ہیں۔
مزید برآں، دفترِ خارجہ نے اپنی پریس ریلیز میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات نہ تو تسلیم کیے جائیں گے اور نہ ہی مقبوضہ فلسطینی علاقے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حیثیت کو تبدیل کریں گے۔
پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے غیر متزلزل عزم کی توثیق کرتا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی پُرعزم وکالت کرتے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.