بجلی کی تقسیم کار تین کمپنیاں—آئیسکو، فیسکو اور گیپکو—اس سال دسمبر کے آخر تک نجکاری کے لیے تیار ہو جائیں گی۔
یہ بات پاور ڈویژن کے ایک اعلیٰ افسر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں بتائی، جس کی صدارت محمد عاطف خان نے کی۔
پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری محفوظ بھٹی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نجکاری کمیشن کے ساتھ مل کر پاور ڈویژن تمام 10 ڈسکوز کی نجکاری پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کا عمل پہلے ہی حتمی مراحل میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تینوں ڈسکوز کا ڈیو ڈیلیجنس مرحلہ آخری مرحلے میں ہے اور فنانشل ایڈوائزر بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔
افسر نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق نجکاری کمیشن مالیاتی ڈھانچے پر کام کر رہا ہے اور اس سال دسمبر تک اظہار دلچسپی (ای او آئیز) طلب کر لی جائیں گی اور سیل پرچیز ایگریمنٹ کی شرائط و ضوابط بھی طے کر لیے جائیں گے۔
کمیٹی کے چیئرمین عاطف خان نے کہا کہ حکومت کو ڈسکوز کی نجکاری سے کوئی نہیں روک رہا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان ڈسکوز میں بھرتیاں روک دی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے میں سینکڑوں کلومیٹر کے علاقے میں صرف ایک لائن مین ہے، جس کی وجہ سے عوام کو شکایات کے حل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پاور ڈویژن کے افسر نے وضاحت کی کہ وزارت نے کسی بھی ڈسکو کو ضروری عملے کی بھرتی سے نہیں روکا۔
رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق تمام 10 ڈسکوز میں 80,000 اسامیاں خالی ہیں لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے صرف 20,000 سے 25,000 افراد کی بھرتی کی منظوری دی ہے تاکہ نظام کسی طرح چلتا رہے۔
اراکین نے متفقہ طور پر اس پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا جس کے تحت صرف وہی ڈسکوز نجکاری کے لیے منتخب کی جا رہی ہیں جن کے ترسیلی اور تقسیم نقصانات کم سے کم ہیں۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ صرف مؤثر ترین کمپنیوں کی نجکاری سے حکومت مجبور ہو جائے گی کہ مسلسل کم کارکردگی والی ڈسکوز کو برقرار رکھے، جس سے موجودہ مسائل مزید بڑھیں گے اور ان کی مستقبل میں نجکاری تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔
پاور ڈویژن کے افسر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ملک کی موجودہ انسٹالڈ بجلی پیداوار کی گنجائش 39,952 میگاواٹ ہے، جس میں 46 فیصد صاف توانائی اور 54 فیصد فوسل فیول پر مشتمل ہے۔
توانائی کے مکس کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ فوسل فیول پر انحصار صاف توانائی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
پاور ڈویژن نے قائمہ کمیٹی کو پاکستان کی موجودہ بجلی پیداوار کی گنجائش پر جامع بریفنگ دی، جس کے مطابق مجموعی انسٹالڈ کپیسٹی 39,952 میگاواٹ ہے۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ملک کے پاور سیکٹر میں اس وقت تقریباً 7,000 سے 8,000 میگاواٹ بجلی کی اضافی گنجائش موجود ہے۔
اراکین نے اس غیر استعمال شدہ بجلی کے لیے کی جانے والی بھاری صلاحیتی ادائیگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جو قومی خزانے پر بوجھ ڈال رہی ہیں حالانکہ اس کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہو رہا۔
کمیٹی کے اراکین نے خیبرپختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں اور وفاقی بجٹ 26-2025 میں مختص فنڈز کی غیر مساوی تقسیم پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔
کمیٹی نے نوٹ کیا کہ خیبرپختونخوا کی آبادی گلگت بلتستان سے کہیں زیادہ ہے، لیکن دونوں خطوں کے لیے صرف دو نئے منصوبے رکھے گئے ہیں، جو واضح ناانصافی کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید برآں، صوبوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ مختص کرنے میں بھی نمایاں فرق سامنے آیا، بلوچستان کے لیے 209.6 ارب روپے، پنجاب کے لیے 76.6 ارب روپے، سندھ کے لیے 145.9 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے لیے 30.843 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس نے اپیلیں اور عبوری ریلیف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، جن کی سماعتیں جاری ہیں اور اگلی سماعت ستمبر 2025 میں مقرر ہے۔
اسی دوران، ای اے ڈی نے وفاقی کابینہ سے ایک نئے قانون ”فارین کنٹری بیوشنز (این جی اوز اور این پی اوز) ریگولیشن ایکٹ 2025“ کے لیے اصولی منظوری طلب کی ہے تاکہ قانونی خامیوں کو دور کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.