عمران خان کے بیٹوں کی ٹرمپ کے معاونِ خصوصی سے ملاقات، والد کی رہائی کیلئے امریکا میں مہم شروع
سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان نے کیلیفورنیا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات عمران خان کی رہائی کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی مہم کے آغاز کا حصہ ہے۔
28 سال کے سلیمان خان اور 26 سالہ قاسم خان، دونوں بھائی، رواں سال مئی میں سیاسی منظرنامے پر نمودار ہوئے، جہاں انہوں نے اپنے والد کی اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں جاری قید کو اجاگر کیا۔
عمران خان 190 ملین پاؤنڈ کے کرپشن کیس میں دی گئی سزا کاٹ رہے ہیں، جب کہ ان کے خلاف 9 مئی 2023 کے پرتشدد مظاہروں سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت بھی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
رچرڈ گرینل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ملاقات کی ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں وہ سلیمان اور قاسم خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
گرینل نے تصویر کے ساتھ پیغام دیا ہے کہ ”حوصلہ رکھیں… دنیا بھر میں لاکھوں افراد سیاسی مقدمات سے تنگ آ چکے ہیں۔ آپ تنہا نہیں ہیں۔“
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نائب چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے سلیمان اور قاسم خان کے عزم و حوصلے کی تعریف کی اور رچرڈ گرینل کی حمایت کو ’’انصاف اور اصول‘‘ کی حمایت قرار دیا۔
اس سے قبل مئی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں، سلیمان اور قاسم خان نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ’’قانونی اور سفارتی تمام راستے آزما چکے ہیں‘‘ اور الزام عائد کیا تھا کہ ان کے والد کو ’’مکمل تنہائی‘‘ میں ایسی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے جو عام طور پر سزائے موت کے قیدیوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے، اور جہاں نہ وکلاء کی رسائی ہے اور نہ ہی ڈاکٹروں کی۔
انہوں نے عالمی سطح پر بااثر شخصیات، خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست اپیل کی تھی کہ وہ عمران خان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی دباؤ پیدا کریں۔
خان برادران اب ایک ایسی عالمی مہم پر توجہ دے رہے ہیں جس کا مقصد پاکستان میں اختلافِ رائے کی آوازوں کو دبانے کے خلاف مؤثر پیغام دینا ہے۔ ان کی امریکہ میں مہم کا آغاز عمران خان کی گرفتاری کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر، اگست کے آغاز میں متوقع احتجاجی تحریک کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔
ادھر پاکستان میں سرکاری سطح پر تاحال اس مہم پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 16 (آزادیٔ اجتماع) غیر ملکیوں پر لاگو نہیں ہوتا، اور ویزا شرائط کی خلاف ورزی پر کارروائی ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی عمران خان کے بیٹوں کی وطن واپسی سے متعلق آراء منقسم دکھائی دیتی ہیں۔

























Comments
Comments are closed.