BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

روسی نائب وزیرِ اعظم الیگزے اوورچک نے پاکستان اور روس کو ”فطری اتحادی“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن پاکستان کے ساتھ تجارت اور توانائی سمیت تمام اہم شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے شدید حامی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صدر پیوٹن آئندہ ماہ اگست کے آخر میں چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے منتظر ہیں تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

یہ بات جمعرات کو ماسکو میں اُس وقت سامنے آئی جب پاکستان کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے، جس کی قیادت وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی اور مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان (جو پاکستان اسٹیل ملز منصوبے کے فوکل پرسن بھی ہیں) کر رہے تھے، روسی نائب وزیرِ اعظم الیگزے اوورچک سے ملاقات کی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، روسی نائب وزیرِ اعظم نے پاکستان کے دونوں مشیروں کے دورے کو خوش آئند قرار دیا اور اسے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کا مظہر کہا۔

الیگزے اوورچک نے زور دیا کہ صدر پیوٹن پاکستان کو خطے میں معاشی ترقی اور توانائی کے شعبے میں ایک اہم شراکت دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ازبکستان، پاکستان اور روس کے درمیان ریلوے رابطہ اور اگست 2025 میں پاکستان و روس کے درمیان پائلٹ کارگو ٹرین کی روانگی جیسے باہمی رابطے کے منصوبوں کو بہت اہم قرار دیا۔

ملاقات کے دوران روسی نائب وزیرِ اعظم نے ستمبر 2024 میں اپنے دورۂ پاکستان اور اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کا بھی حوالہ دیا۔ دونوں فریقین نے جنوبی ایشیا، افغانستان، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی فورمز پر پاکستان-روس تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ابتدا میں طارق فاطمی نے پاکستانی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کا پیغام روسی قیادت تک پہنچایا اور کہا کہ اعلیٰ سطح پر مثبت سوچ دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت رفتار پیدا کر رہی ہے۔ دونوں فریقین نے سیاسی، تجارتی، اقتصادی، توانائی، صنعتی، زرعی اور رابطے کے شعبوں میں مکمل دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا۔

طارق فاطمی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ان تعلقات کو مضبوط بنانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان روس کو بین الاقوامی استحکام کا ایک اہم عنصر تصور کرتا ہے۔

ملاقات کے دوران ہارون اختر نے کہا کہ پاکستان، کراچی میں نئی اسٹیل ملز کی تعمیر کے سلسلے میں جاری مذاکرات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے کیونکہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کا مظہر اور مستقبل میں تعاون و شراکت داری کا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سرمایہ کاری دوست صنعتی پالیسی پر بھی روشنی ڈالی جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت نے معاشی استحکام حاصل کیا ہے۔

دریں اثنا، روس کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران، مشیر خارجہ طارق فاطمی نے ماسکو میں روس کے پہلے نائب وزیر برائے توانائی، پاویل سوروکن سے بھی ملاقات کی۔

ملاقات میں طارق فاطمی نے دونوں ممالک کے درمیان جاری توانائی تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس شعبے میں تعلقات مزید وسعت اختیار کریں گے۔ انہوں نے روس کی جانب سے پاکستان کی توانائی سلامتی کے لیے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔

روسی نائب وزیرِ توانائی پاویل سوروکن نے فروری 2025 میں اپنے کامیاب دورۂ پاکستان کو یاد کرتے ہوئے، جس دوران وہ وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بھی ملے تھے، دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں اچھے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہائیڈرو پاور، ایل پی جی اور آئل ریفائنریز کی جدید کاری جیسے شعبے دوطرفہ تعاون کے لیے موزوں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ توانائی کے شعبے میں قریبی شراکت داری کے لیے بھرپور تیاری رکھتا ہے، اور یہ موضوع اس سال اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاکستان-روس بین الحکومتی کمیشن (آئی جی سی) کے دسویں اجلاس کے ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہو گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.