اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ، ایک لاکھ 21 ہزار کی بلند سطح عبور
- 100 انڈیکس 1,347.99 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 121,798.86 پر بند ہوا
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ آئندہ بجٹ پر مذاکرات کی کامیابی سے متعلق رپورٹس کے باعث اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو خریداری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
کاروبار کے دوران دن بھر مثبت رجحان غالب رہا جس کے باعث ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 121,882.47 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,347.99 پوائنٹس یا 1.12 فیصد اضافے سے 121,798.86 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ سربراہ ثناء توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں قیمتیں پرکشش ہو گئی ہیں جو موجودہ خریداری کے رجحان کو تقویت دے رہی ہیں۔
یاد رہے کہ منگل کو بھی پی ایس ایکس نے ایک نئی بلند ترین سطح پر کاروبار کا اختتام کیا تھا جس کی وجہ مثبت معاشی اشاریے اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے پاکستان کے لیے 800 ملین ڈالر کی منظوری بنی۔
گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 1,573.07 پوائنٹس (1.32 فیصد) کے اضافے سے پہلی بار ایک لاکھ 20 ہزار 451 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر ایشیائی اسٹاکس میں بدھ کو معمولی اضافہ دیکھا گیا جبکہ امریکی ڈالر چھ ہفتے کی کم ترین سطح دکھائی دیا کیونکہ سرمایہ کار امریکی اسٹیل اور ایلومینیم پر ممکنہ طور پر بڑھتی ہوئی ڈیوٹیز کے لیے تیاری کررہے ہیں—یہ تجارتی جنگ کا تازہ باب ہے جس نے سال بھر مارکیٹوں کو متاثر کیا۔
جنوبی کوریا کے اسٹاکس اور اس کی کرنسی میں تیزی دیکھی گئی، کیونکہ لبرل صدارتی امیدوار لی جے میونگ کی فتح نے فوری معاشی پیکیج، مارکیٹ میں اصلاحات اور پالیسی غیر یقینی میں کمی کی امیدوں کو تقویت دی۔
کے او ایس پی انڈیکس میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو اگست 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک حصص کا سب سے وسیع انڈیکس 0.6 فیصد بڑھ گیا۔
جاپان کا نِکئی انڈیکس 0.8 فیصد بڑھا جب کہ تائیوان کے اسٹاکس میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا، جسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دیو کمپنی اینویڈیا کی جانب سے امریکی اسٹاکس میں رات بھر کی بہتری سے تقویت ملی۔
بدھ کو جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق، اپریل میں امریکہ میں ملازمتوں کے نئے مواقع میں اضافہ ہوا، لیکن برطرفیوں کی شرح بھی بڑھی، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ ٹیرف سے متاثرہ معیشت میں لیبر مارکیٹ سست روی کا شکار ہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان رواں ہفتے کسی کال کا امکان ہے، کیونکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔
گزشتہ جمعہ کو ٹرمپ نے چین پر جنیوا معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا، جس میں ٹیرف اور تجارتی پابندیاں کم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔























Comments
Comments are closed.