ریڈیو پاکستان نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ پاکستان نے دو طرفہ، علاقائی اور عالمی سطح پر موجود ڈائیلاگ فریم ورک کو مؤثر اور فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ مؤقف چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سنگاپور میں ہونے والے 22ویں شنگریلا سیکیورٹی ڈائیلاگ 2025 کے دوران پیش کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ تنازع سے بچاؤ، بحران کے بعد کی کوششوں سے بہتر ہے۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے عالمی نظام کا خواہاں ہے جو خودمختاری اور تحمل پر مبنی ہو۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
پاک بھارت حالیہ کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا واضح مؤقف ہے کہ پاکستان کے پانی کو روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ باوقار، مساوی اور باہمی احترام پر مبنی پائیدار امن کا خواہاں ہے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ پاکستان مسلسل بھارت اور عالمی برادری سے باضابطہ مذاکراتی نظام کی بحالی کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد کی صورتحال خطے کی ترقی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر بحران مینجمنٹ سسٹم کی عدم موجودگی عالمی طاقتوں کو بروقت مداخلت سے روک رہی ہے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ پائیدار بحران مینجمنٹ کے لیے باہمی تحمل، ریڈ لائن کی پہچان اور توازن پر مبنی نظام ضروری ہے۔




















Comments
Comments are closed.