BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Increased By (0.08%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Decreased By (-0.2%)
BAFL 57.72 Decreased By ▼ -0.44 (-0.76%)
BIPL 27.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 34.58 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
CNERGY 13.68 Increased By ▲ 0.57 (4.35%)
DFML 18.42 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
DGKC 215.81 Increased By ▲ 2.15 (1.01%)
FABL 99.27 Decreased By ▼ -0.29 (-0.29%)
FCCL 57.55 Decreased By ▼ -0.51 (-0.88%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.27 (1.66%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
HBL 334.31 Decreased By ▼ -3.85 (-1.14%)
HUBC 212.96 Decreased By ▼ -0.40 (-0.19%)
HUMNL 10.51 Decreased By ▼ -0.07 (-0.66%)
KEL 7.36 Decreased By ▼ -0.07 (-0.94%)
LOTCHEM 27.51 Decreased By ▼ -0.16 (-0.58%)
MLCF 101.93 Decreased By ▼ -0.82 (-0.8%)
OGDC 318.48 Decreased By ▼ -0.44 (-0.14%)
PAEL 42.86 Decreased By ▼ -0.24 (-0.56%)
PIBTL 16.72 Increased By ▲ 0.09 (0.54%)
PIOC 274.51 Increased By ▲ 1.51 (0.55%)
PPL 230.62 Increased By ▲ 1.17 (0.51%)
PRL 76.73 Increased By ▲ 5.93 (8.38%)
SNGP 102.23 Decreased By ▼ -2.35 (-2.25%)
SSGC 27.10 Decreased By ▼ -0.31 (-1.13%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.03 (0.35%)
TPLP 15.45 Decreased By ▼ -0.31 (-1.97%)
TRG 60.09 Decreased By ▼ -0.20 (-0.33%)
UNITY 11.47 Decreased By ▼ -0.25 (-2.13%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بھارت برطانیہ، فرانس اور جاپان کے دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والے اداروں سے فعال رابطے میں ہے تاکہ فائٹر جیٹ انجن کی مشترکہ تیاری کی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ اقدام ، جو امریکہ سے آگے بڑھ کر شراکت داری میں تنوع پیدا کرنے اور بھارت کی دفاعی صلاحیتوں میں موجود اہم خلا کو دور کرنے کی کوشش ہے، یہ پیش رفت اس واقعے کے چند ہفتے بعد سامنے آیا ہے جب پاکستان نے فضائی جھڑپ میں بھارتی فضائیہ کے کم از کم پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے۔ اس جھڑپ میں دونوں جانب سے 100 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا اور یہ کئی گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔

اس واقعے نے عالمی افواج کو متوجہ کیا ہے جو اس خطے میں فضائی جنگ کے بدلتے ہوئے رجحانات کا مطالعہ کر رہی ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق بھارت کا دفاعی تحقیق و ترقی کا ادارہ (ڈی آرڈی او) ان ممالک کی جانب سے دی گئی تجاویز کا جائزہ لے گا، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور حقوق دانش (آئی پی) کے اشتراک کو خاص اہمیت دی جائے گی۔

برطانیہ کے حالیہ دورے کے دوران رولز رائس ہولڈنگز پی ایل سی نے بھارتی حکام کو مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی منتقلی کی پیشکش کی ہے جبکہ فرانس کی کمپنی سفراں ایس اے نے بھی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور حقوق دانش (آئی پی) شیئرنگ پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

جاپان نے بھی بھارت کو اس سے ملتی جلتی پیشکش کی ہے، جو رواں ماہ کے اوائل میں نئی دہلی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے جاپانی ہم منصب کے درمیان ہونے والی دوطرفہ ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ اس ملاقات میں ٹینک اور ایرو انجن کی تیاری میں ممکنہ تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

بھارت کی دفاعی خود انحصاری کی کوششوں کے تحت ففتھ جنریشن کے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ پروگرام کی بھی منظوری دی جا چکی ہے۔

ایڈوانسڈ میڈیم کومبیٹ ایئرکرافٹ (اے ایم سی اے) منصوبہ، جو سرکاری ایروناٹیکل ڈویلپمنٹ ایجنسی کی قیادت میں جاری ہے، بھارتی فضائیہ کے بیڑے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ فی الحال بھارتی فضائیہ کی اسکواڈرن کی تعداد منظور شدہ 42 سے کم ہے۔

اے ایم سی اے کو ایک دو انجنوں پر مشتمل اسٹیلتھ فائٹر طیارے کے طور پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے اور اس کی تیاری میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، بھارت 2023 سے امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک (جی ای) کے ساتھ GE F414 انجنز کی مشترکہ تیاری پر مذاکرات کر رہا ہے۔

تاہم، یہ بات چیت تاخیر کا شکار رہی ہے، اور بھارت نے گزشتہ سال امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک پر سخت جرمانے عائد کیے تھے کیونکہ کمپنی نے بھارت میں تیار کردہ سنگل جیٹ لڑاکا طیاروں کے لیے انجنز کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر کی تھی۔

رواں سال فروری میں بھارت کے سرکاری طیارہ ساز ادارے، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے اعلان کیا تھا کہ جیسے ہی جنرل الیکٹرک انجنز فراہم کرے گا، ان طیاروں کی پیداوار شروع کر دی جائے گی۔

شراکت داریوں میں تنوع اور ملکی دفاعی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے پر حالیہ توجہ بھارت کے دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کے عزم کو واضح کرتی ہے۔

Comments

Comments are closed.