پاک بھارت تناؤ میں کمی، سرحد سے افواج کی واپسی کا عمل مکمل ہونے کے قریب
پاکستان اور بھارت سرحد پر افواج کی موجودگی کو اس سطح پر واپس لانے کے قریب ہیں جو موجودہ تنازع سے قبل تھی، یہ بات جمعہ کے روز پاکستان کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار جنرل ساحر شمشاد مرزا نے رائٹرز کو بتائی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ کشیدگی نے مستقبل میں تنازع کے بڑھنے کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔
ایٹمی صلاحیت کے حامل ان دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں بعد چار روز تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں میں لڑاکا طیارے، میزائل، ڈرونز اور توپخانے استعمال کیے گئے، جس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
تنازع کا آغاز 22 اپریل کو بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک حملے سے ہوا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی۔ نئی دہلی نے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی۔
7 مئی کو بھارت نے سرحد پار مبینہ دہشت گردی کے ڈھانچے پر میزائل داغے، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی کارروائی کی اور دونوں ممالک نے سرحد پر اضافی افواج تعینات کر دیں۔
، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، جو شنگریلا ڈائیلاگ فورم میں شرکت کے لیے سنگاپور میں موجود ہیں، نے کہا کہ دونوں ممالک نے افواج کی واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تقریباً 22 اپریل سے قبل کی صورت حال کی طرف واپس آ چکے ہیں، یا پہنچنے والے ہیں۔
ہندوستان کی وزارت دفاع اور ہندوستانی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے دفتر نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کے ریمارکس پر تبصرہ کرنے کے لئے رائٹرز کی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے تسلیم کیا کہ اگرچہ اس تنازع میں ایٹمی ہتھیاروں کی طرف کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی، مگر خطرہ بہت حقیقی تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بار کچھ نہیں ہوا، لیکن کسی بھی وقت اسٹریٹیجک غلطی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بحران کے دوران ردعمل مختلف ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ چونکہ حالیہ لڑائی صرف کشمیر تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اندرونی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا، اس لیے مستقبل میں خطرہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے رواں ماہ خبردار کیا کہ اگر بھارت پر دوبارہ حملہ ہوا تو وہ سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ یہ رجحان خطرناک ہے کیونکہ یہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازع کی حد کو کم کرتا ہے۔ آئندہ یہ صرف متنازع علاقے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بھارت اور پاکستان دونوں متاثر ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق کشیدگی کے خاتمے میں امریکا، بھارت اور پاکستان کی خفیہ سفارت کاری نے کردار ادا کیا، اگرچہ بھارت نے کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی تردید کی ہے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے خبردار کیا کہ مستقبل میں عالمی ثالثی مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بحران سے نمٹنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے مداخلت کے لیے وقت بہت کم ہو گا، اور ممکن ہے کہ تب تک نقصان ہو چکا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن بحران ہاٹ لائن کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ یا غیر رسمی رابطہ نہیں ہے۔
بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو پاکستان کے ساتھ بات چیت کے امکان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بات چیت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی بیک چینل یا غیر رسمی بات چیت نہیں ہو رہی، اور ان کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان سے ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی بھی نہیں ہے، جو شنگریلا فورم میں بھارت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسائل صرف مذاکرات اور مشاورت سے حل ہو سکتے ہیں، میدانِ جنگ سے نہیں۔




















Comments
Comments are closed.