’تنخواہ دار طبقے نے مالی سال 25 میں ایکسپورٹرز ، تاجروں کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ٹیکس ادا کیا‘
پاکستان کے تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس نیٹ میں شراکت مالی سال 2024-25 میں ملک کے برآمد کنندگان اور ریٹیلرز کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ رہی۔ یہ بات جمعرات کو سیلریڈ کلاس الائنس آف پاکستان (ایس سی اے پی) کے رکن نے کہی۔
سالریڈ کلاس الائنس آف پاکستان کے رکن ناصر حسین طیبانی نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2024-25 کے پہلے 10 مہینوں میں تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس کی مد میں 430 ارب روپے وصول کیے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال کے دوران تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس میں شراکت کا تخمینہ 550 ارب روپے سے زیادہ تھا جو کہ مالی سال 2019 میں 75 ارب روپے اور مالی سال 2024 میں 368 ارب روپے تھا۔
ناصر حسین طیبانی نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر بھاری ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں جبکہ برآمد کنندگان اور خوردہ فروشوں نے مجموعی طور پر صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کیا ہے۔
اس گروپ نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ریلیف کی درخواست کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ٹیکس کی وصولی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
سیلریڈ کلاس الائنس کی ایک اور رکن کومل علی نے کہا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جب بڑھائی گئی ٹیکس شرحیں ٹیکس کی وصولی اور معیشت کی ترقی پر اثر ڈالنا شروع کر دیں گی، اور سرمائے کی بیرون ملک منتقلی اور برین ڈین کو تیز کر دیں گی۔
پریس کانفرنس میں لافر کرپ نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کومل علی نے کہا کہ پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کی آمدنی پر موجودہ ٹیکس کی شرحیں ”بہت زیادہ“ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ٹیکس میں کٹوتی اور ٹیکس کریڈٹ کا انتخاب نہ کیا تو ٹیکس کی وصولی اور اقتصادی سرگرمیاں کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ ٹیکس کی شرحیں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی ملک سے بیرون ملک ہجرت اور سرمایہ کے انخلا کو تیز کر دیں گی۔
دریں اثنا ناصر حسین طیبانی نے مزید کہا کہ تنخواہ دار طبقہ 35 فیصد تک ٹیکس ادا کرتا ہے اور ان میں سے کچھ افراد 10 فیصد اضافی سرچارج بھی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب انہیں اشیاء کی خریداری پر بالواسطہ ٹیکسز اور صحت و تعلیم کی فیسوں کی مد میں بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکسوں میں جا رہا ہے جو ان کی دستیاب آمدنی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے سلیبس کی تعداد کو 2022-23 کی سطح پر واپس لے آئے، ٹیکس کی زیادہ شرح کو کم کرے، اور ٹیکس سے مستثنیٰ آمدنی کی حد کو موجودہ 50,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 100,000 روپے ماہانہ کر دے۔
طیبانی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میوچل فنڈز اور پنشن فنڈز جیسے سرمایہ کاری کے شعبوں پر ٹیکس رعایتیں بحال کرے اور انکم ٹیکس پر عائد 10 فیصد سرچارج ختم کرے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے کے لیے زراعت اور ریٹیل سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے، بجائے اس کے کہ پہلے سے ہی بھاری ٹیکس دینے والے افراد اور معیشت کے شعبوں پر مزید ٹیکس بڑھائے جائیں۔
الائنس کے ایک اور رکن حسنین اشرف نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت اپنی حد تک پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے وہ گھر اور گاڑیاں خریدنے کے لیے مالی وسائل نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے چاہئیں اور نقصان میں چلنے والے اداروں کو ٹھیک کرنا چاہیے جنہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر چلایا جا رہا ہے۔
الائنس کا کہنا ہے کہ اس نے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا تاکہ تنخواہ دار طبقے کی آواز بلند کی جا سکے، لیکن کسی نے بھی اس پر توجہ نہیں دی۔
گروپ نے کہا کہ اگر حکومت 10 جون کو آنے والے بجٹ میں ریلیف نہیں دیتی تو وہ اپنے ٹیکس کے کیس کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔
الائنس نے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ مڈل کلاس دب گئی ہے۔ جبکہ گزشتہ تین سالوں میں مہنگائی دگنی ہو گئی ہے، ٹیکس کیلئے کم ازکم آمدنی کی حد اب بھی ماہانہ 50,000 روپے برقرار ہے۔
بیان کے مطابق اس طبقے [تنخواہ دار طبقے] کو مسلسل نظر اندازکیے جانا ملک سے بڑھتے برین ڈرین میں اضافہ کر رہا ہے، رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ہنر مند اور تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کی ملک سے ہجرت میں 119 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ بھاری ٹیکس ہے۔
الائنس کے مطابق زراعت کا شعبہ، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 20 فیصد کا حصہ رکھتا ہے، ٹیکس ریونیو میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ چھ زمین دار اور خصوصی طبقے وسیع چھوٹ سے مستفید ہوتے ہیں، جبکہ مزدوروں کو 35 فیصد تک ٹیکس اور اس کے علاوہ 10 فیصد اضافی سرچارج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
الائنس نے معیشت میں ”بڑھتی ہوئی غیر رسمی سرگرمیوں“ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جہاں ادارے زیادہ ٹیکس کٹوتیوں سے بچنے کے لیے تنخواہیں نقد ادا کرتے ہیں جس سے دستاویزی عمل اور طویل مدتی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
ایس سی اے پی سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین پر مشتمل ہے جن کا تعلق مسلح افواج، بینک، تعلیمی ادارے، میڈیا، اور کارپوریٹ اداروں سے ہے۔
























Comments
Comments are closed.