بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس
- کسی بھی جارحیت کا بھرپور قوت سے جواب دیا جائے گا، بھارت کو انتباہ
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کشمیر سمیت دیرینہ تنازعات اور آبی تحفظ کے مسائل کے حل پر زور دیا، ساتھ ہی ہر قسم کی جارحیت کے خلاف پاکستان کے دفاعِ اور خودمختاری کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم نے ہمیشہ امن چاہا ہے، اب بھی چاہتے ہیں اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں، جن میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور حتیٰ کہ 1954 میں بھارتی لوک سبھا کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
یہ بیان پاکستان اور بھارت، دونوں جوہری طاقتوں، کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ اگر بھارت سنجیدہ ہو تو پاکستان تجارت اور انسداد دہشت گردی جیسے معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پانی کے مسائل پر بات کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، تاکہ ہمسایہ ملک کے ساتھ امن قائم کیا جا سکے۔ اگر وہ میری امن کی پیشکش کو قبول کرتے ہیں تو ہم خلوصِ نیت سے ثابت کریں گے کہ ہم واقعی امن چاہتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے مگر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت جارحیت کی راہ پر گامزن رہتا ہے تو ہم اپنی سرزمین کا دفاع اسی عزم اور قوت سے کریں گے جیسا کہ چند روز قبل کیا گیا ہے۔
وزیراعظم اس وقت دوست ممالک کے چار ملکی دورے پر ہیں، جس دوران وہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں ان ممالک کی حمایت پر پاکستان کی جانب سے اظہارِ تشکر کر رہے ہیں۔
اس دورے میں وزیراعظم شہباز شریف ہر ملک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، جن میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔
مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کا کرنے اور خطے میں ثالثی کی پیشکش پر ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے ایرانی قیادت کو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے آگاہ کیا، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جنگ بندی کے معاہدوں کی پاسداری کرتا رہے گا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور تہذیبی رشتوں کو تسلیم کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی خطے کے لیے ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہے اور کہا کہ ایران اور پاکستان، جو بیرونی عناصر کی سازشوں سے بخوبی واقف ہیں، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ افغانستان میں امن و ترقی کا فروغ خطے کے مجموعی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں ممالک نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے جلد حل کے لیے باہمی مشاورت کے ذریعے پیش رفت پر اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں فلسطینی عوام پر اسرائیل کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی نسل کش پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی راہ ہموار کی جائے۔




















Comments
Comments are closed.