پاکستان کے کلیدی معاشی شعبے، چینی اور گندم سے لے کر کھاد، انشورنس، بجلی، اور آٹو موبائل تک، عشروں سے حکومتی کنٹرول، انتظامی نرخ بندی اور منڈی میں مداخلت کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس کا مقصد استحکام کو یقینی بنانا اور کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا تھا لیکن اس کے نتائج اکثر اس کے برعکس نکلے یعنی مسلسل قلت، ترغیبات کا بگاڑ، خدمات کا ناقص معیار اور قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
اب وہ مشکل سوال پوچھنے کا وقت آ گیا ہے، کیا حکومت کو منڈی کے ایک فریق کے طور پر سرگرم رہنا چاہیے یا اُسے خود کو ایک منڈی کے نگران کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے؟
پاکستان کو فوری طور پر کمانڈ اینڈ کنٹرول طرزِ معیشت سے نکل کر ایک ایسے نظام کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت ہے جو کھلی منڈیوں اور منصفانہ مسابقت پر مبنی ہو۔ ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، معاشی کارکردگی کے اصل محرک صارفین ہونے چاہئیں، نہ کہ بیوروکریٹک نرخنامے والی کمیٹیاں یا درآمد و برآمد کے کوٹے۔ جب منڈیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جاتا ہے، تو رسد و طلب فطری توازن حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جدت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، کارکردگی پر انعام ملتا ہے اور خدمات کی فراہمی بہتر ہوتی ہے۔
کنٹرول کی قیمت
چینی اور گندم کے شعبوں کو لیجیے، جہاں انتظامی نرخ بندی اور خریداری کی پالیسیوں نے مصنوعی قلت، کرایہ خوری اور بلیک مارکیٹ میں زیادہ نرخ پیدا کیے ہیں۔ کھاد پر سبسڈی اور کوٹہ تقسیم کا نظام بدعنوانی اور چالاکی کے لیے گنجائش فراہم کرتا ہے۔ آٹو موبائل انڈسٹری میں درآمدی پابندیاں اور تحفظاتی پالیسیاں مقابلے کے رجحان کو دبائے رکھتی ہیں، جس کے باعث قیمتیں تو بلند ہیں لیکن معیار میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
انشورنس اور بجلی کے شعبے بھی پرانے ضوابط اور بے جا سرخ فیتے کا شکار ہیں، جو جدت کو روکنے اور صارفین کے انتخاب کے مواقع محدود کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ریاست کی ان شعبوں میں حد سے زائد مداخلت نجی شعبے کی پہل کاری کو دباتی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دور رکھتی ہے۔
صارف کو اولیت دینے والی منڈیاں
شفاف اور منصفانہ انداز میں منظم کی گئی کھلی منڈیاں فطری طور پر صارف دوست ہوتی ہیں۔ یہ نظام کمپنیوں کو صرف قیمت ہی نہیں، بلکہ معیار، خدمات اور جدت کے میدان میں بھی مسابقت پر مجبور کرتا ہے۔ ایسی مسابقت کے نتیجے میں بہتر مصنوعات، کم لاگت اور صارفین کے لیے زیادہ مؤثر خدمات جنم لیتی ہیں۔ ایک آزاد منڈی میں، صارف کو بادشاہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔
برعکس صورتحال: سرکاری کنٹرول والی منڈیاں
حکومتی کنٹرول میں چلنے والی منڈیاں صارفین کو بے اختیار کر دیتی ہیں۔ انتخاب کے مواقع محدود ہوتے ہیں، معیار قربان کر دیا جاتا ہے اور قیمتیں یا تو مصنوعی طور پر بلند رکھی جاتی ہیں یا اتنی کم ہوتی ہیں کہ برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ مسابقت کی غیر موجودگی سستی اور ضیاع کو جنم دیتی ہے، اور اس کا بوجھ بالآخر عوام پر ہی آتا ہے۔
قانونی نگرانی، نہ کہ مکمل کنٹرول
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایک مکمل طور پر بے ضابطہ اور غیر منظم نظام اپنا لیا جائے۔ حکومت کا کردار اب بھی نہایت اہم ہے — مگر بطور ایک غیر جانب دار نگران، جو منڈی میں مساوی مواقع کو یقینی بنائے، صارفین کے حقوق کا تحفظ کرے اور غیر منصفانہ مسابقتی رویوں کی روک تھام کرے۔
ایسے مضبوط اداروں جیسے کہ پاکستان کا کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) کو مکمل اختیارات اور وسائل دیے جانے چاہئیں تاکہ وہ مارکیٹ کے اصول نافذ کر سکیں، اجارہ داریوں، گٹھ جوڑ اور غالب حیثیت کے غلط استعمال کا موثر سدباب کر سکیں۔
حکومت کا کردار قیمتیں طے کرنے سے نکل کر مسابقت کو فروغ دینے، ذخائر سنبھالنے سے شفافیت یقینی بنانے اور پرانے کھلاڑیوں کو تحفظ دینے سے نئے آنے والوں کے لیے راستہ ہموار کرنے تک محدود ہونا چاہیے۔
پاکستان میں 200 ملین سے زائد صارفین کی موجودگی اسے عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منڈی بناتی ہے — لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ہماری منڈیاں کھلی، پیش گوئی کے قابل اور میرٹ پر مبنی ہوں۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار ان نظاموں کی طرف راغب ہوتے ہیں جہاں قواعد واضح ہوں، مسابقت منصفانہ ہو، اور پالیسی راتوں رات تبدیل نہ ہوتی ہو۔
ہم اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ یا تو ہم بگڑی ہوئی منڈی، مواقع کے ضیاع اور غیر موثر پالیسیوں کے پرانے راستے پر چلتے رہیں، یا ایک ایسے مستقبل کا انتخاب کریں جہاں متحرک، مسابقتی اور صارفین پر مبنی منڈیاں معیشت کی اصل قوت بنیں۔
ایک مضبوط معیشت کی تعمیر کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنی منڈیوں کو آزاد رہنے دینا ہوگا۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.