ٹرمپ نے یورپی یونین اور ایپل کو نشانہ بناتے ہوئے تجارتی دھمکیاں ایک بار پھر دہرادیں
- امریکی صدر کا یورپی یونین کی اشیاء پر یکم جون سے 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے پر زور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز ایک بار پھر تجارتی جنگ تیز کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی اشیاء پر یکم جون سے 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ انہوں نے ایپل کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ میں خریدے جانے والے تمام آئی فونز پر 25 فیصد ٹیکس لگا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے دی جانے والی ان دہری دھمکیوں نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی، حالانکہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کشیدگی میں کمی کے باعث قدرے استحکام آیا تھا۔
ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں ابتدائی کاروبار کے دوران ایک فیصد کمی ہوئی، نیسڈیک 1.2 فیصد نیچے آیا، جب کہ یورپی حصص کی قیمتوں میں 1.5 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔
یورپی یونین کے خلاف ٹرمپ کی یہ سخت تنقید اس وقت سامنے آئی جب وائٹ ہاؤس کا خیال تھا کہ یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے۔ تاہم ان کا یہ جارحانہ انداز ایک مرتبہ پھر واشنگٹن کی رک رک کر جاری رہنے والی تجارتی جنگ کی یاد دلاتا ہے، جس نے منڈیوں، کاروباروں اور صارفین کو متاثر کیا ہے اور عالمی کساد بازاری کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب ایپل پر ٹرمپ کا حملہ بھی انہی کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ مختلف کمپنیوں، جیسے گاڑیاں بنانے والے ادارے، دواساز کمپنیاں اور چپ بنانے والی فرمیں، پر دباؤ ڈال چکے ہیں کہ وہ اپنی پیداوار امریکہ منتقل کریں۔
تاہم امریکہ میں اس وقت کوئی اسمارٹ فون تیار نہیں ہوتا، باوجود اس کے کہ امریکی صارفین سالانہ 6 کروڑ سے زائد فون خریدتے ہیں۔
اگر ایپل نے پیداوار امریکہ منتقل کی تو آئی فونز کی قیمت میں سیکڑوں ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔
تجارتی معاہدوں سے متعلق سارا خوش فہمی کا ماحول لمحوں میں، بلکہ سیکنڈز میں، ختم ہو گیا۔
مارکیٹ تجزیہ کار فواد رزاق زادہ نے سٹی انڈیکس اور فاریکس ڈاٹ کام کے لیے ایک نوٹ میں کہا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جمعے کو فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی سے شاید ایک جھٹکا ملے تاکہ وہ سنجیدگی سے بات چیت کرے اور مزید کہا کہ دیگر ممالک واشنگٹن کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ یورپی یونین، جو بنیادی طور پر امریکہ سے تجارتی فائدہ اٹھانے کے لیے قائم کی گئی تھی، کے ساتھ معاملہ کرنا بے حد مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ہماری بات چیت کہیں نہیں جا رہی!
یورپی کمیشن نے جمعے کو اس نئی دھمکی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ یورپی یونین کے تجارتی سربراہ ماروش شیفچووچ اور ان کے امریکی ہم منصب جیمیسن گریر کے درمیان جمعے کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کا انتظار کرے گا۔
یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے سفیروں کا ایک اجلاس بھی برسلز میں اسی روز منعقد ہونا ہے، جس میں تجارتی امور زیرِ بحث آئیں گے۔ ڈچ وزیرِ اعظم ڈک شوف نے ہیگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ سے تجارتی مذاکرات میں یورپی یونین کی حکمت عملی سے متفق ہیں اور امکان ہے کہ یورپی یونین اس تازہ بیان کو مذاکرات کا حصہ ہی سمجھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کے دوران ٹیرف کبھی بڑھائے جاتے ہیں اور کبھی کم۔
یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس نے اپریل کے اوائل میں تقریباً تمام ممالک کے خلاف ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ سخت ٹیرف پر عمل درآمد روک دیا تھا، جب سرمایہ کاروں نے شدید ردعمل میں امریکی اثاثے، بشمول حکومتی بانڈز اور ڈالر، بڑی تعداد میں فروخت کر دیے تھے۔
ٹرمپ نے اگرچہ زیادہ تر درآمدات پر 10 فیصد کا بنیادی ٹیرف برقرار رکھا، لیکن چین سے آنے والی اشیاء پر 145 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 30 فیصد کر دیا۔
نیویارک میں سٹی گروپ کے عالمی چیف اکنامسٹ نیتھن شیٹس نے کہا ہے کہ میری بنیادی توقع یہی ہے کہ فریقین کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن مجھے سب سے زیادہ تشویش یورپی یونین کے ساتھ جاری مذاکرات پر ہے۔
اگر یورپی یونین سے درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جاتا ہے تو اس سے جرمن گاڑیوں سے لے کر اطالوی زیتون کے تیل تک، مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے گزشتہ سال امریکہ کو کل برآمدات تقریباً 500 ارب یورو (566 ارب ڈالر) رہیں، جن میں جرمنی (161 ارب یورو)، آئرلینڈ (72 ارب یورو) اور اٹلی (65 ارب یورو) سرفہرست رہے۔
یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق ادویات، گاڑیاں اور ان کے پرزہ جات، کیمیکل مصنوعات اور ہوائی جہاز ان بڑے برآمدی شعبوں میں شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس متعدد ممالک کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں مصروف ہے، لیکن پیش رفت مسلسل غیر یقینی رہی ہے۔ گروپ آف سیون (جی سیون) صنعتی ممالک کے وزرائے خزانہ نے رواں ہفتے کینیڈین راکی پہاڑوں میں ہونے والے ایک فورم میں ان ٹیرف تنازعات کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی۔
ایکس ٹی بی کی ریسرچ ڈائریکٹر کیتھلین بروکس نے کہا ہے کہ یورپی یونین ٹرمپ کے ناپسندیدہ ترین خطوں میں سے ایک ہے اور ان کے اس کے رہنماؤں سے تعلقات بھی خوشگوار نہیں، جو دونوں کے درمیان ایک طویل تجارتی جنگ کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔
جرمن کار ساز کمپنیوں اور لگژری برانڈز کے حصص، جو ممکنہ امریکی ٹیرف کے سبب سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد گر گئے ہیں۔
ووولو کارز کے سی ای او ہاکن سیموئلسن نے رائٹرز سے جمعے کو بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیرف کے باعث بڑھنے والے اخراجات کا بڑا بوجھ صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا اور یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ کمپنی کی سب سے چھوٹی گاڑیوں کی امریکہ کو درآمدات بالکل بند کرنی پڑیں۔
تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپ اور امریکہ جلد کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
سیموئلسن نے کہا کہ یورپ یا امریکہ دونوں کے مفاد میں نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تجارت بند کر دیں۔
دوسری جانب ایپل نے ٹرمپ کی دھمکی پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ دھمکی دراصل اس پالیسی سے یوٹرن ہے جس کے تحت اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانکس کو، جو زیادہ تر چین سے درآمد ہوتے ہیں، ٹیرف سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا اور جس سے بگ ٹیک کمپنیوں کو وقتی ریلیف ملا تھا۔ جمعے کو ایپل کے حصص میں 2.5 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ہے کہ میں نے بہت پہلے ایپل کے سی ای او ٹِم کُک کو آگاہ کر دیا تھا کہ جو آئی فونز امریکہ میں فروخت ہوں گے، وہ امریکہ میں ہی تیار اور اسمبل ہونے چاہئیں، نہ کہ بھارت یا کسی اور ملک میں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایپل پر ٹیرف لگانے کی کوشش قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرے گی۔
واشنگٹن میں قانونی فرم Akin Gump کی شراکت دار سالی اسٹیورٹ لیانگ کے مطابق کوئی ایسا واضح قانونی اختیار موجود نہیں جو کسی مخصوص کمپنی پر ٹیرف کی اجازت دے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اسے ہنگامی اختیارات کے تحت لانے کی کوشش کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیوں پر مخصوص ٹیرف عائد کرنے کے لیے طویل تحقیقات کی ضرورت پڑتی ہے، جیسا کہ اینٹی ڈمپنگ کیسز میں ہوتا ہے۔
ایپل نے 2026 کے اختتام تک امریکہ میں فروخت ہونے والے زیادہ تر آئی فونز بھارت میں تیار کروانے کی منصوبہ بندی تیز کر دی ہے تاکہ چین سے درآمدات پر لگنے والے ممکنہ زیادہ ٹیرف سے بچا جا سکے۔
تاہم امریکہ میں مینوفیکچرنگ منتقل کرنے کے امکانات خاصے کم ہیں۔ رواں سال فروری میں ایپل نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ چار سال میں امریکہ کی نو ریاستوں میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، لیکن یہ سرمایہ کاری آئی فون کی مینوفیکچرنگ کے لیے نہیں تھی۔
ڈی اے ڈیوڈسن اینڈ کمپنی کے تجزیہ کار گل لوریا نے کہاہے کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایپل اگلے تین سے پانچ سال میں صدر کی اس درخواست پر مکمل طور پر عمل درآمد کر سکے گا۔
ٹرمپ کی جانب سے 25 فیصد ٹیرف لگانے کے اس انتباہ کے بعد ایپل کے حصص کی قیمت میں پری مارکیٹ ٹریڈنگ کے دوران 2.5 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک انڈیکس فیوچرز بھی گر گئے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں پہلے ہی ایپل کے سی ای او ٹم کُک کو آگاہ کر چکا ہوں کہ مجھے توقع ہے کہ وہ تمام آئی فونز جو امریکہ میں فروخت کیے جائیں گے، ان کی تیاری امریکہ ہی میں کی جائے، نہ کہ بھارت یا کسی اور ملک میں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایپل کو کم از کم 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
یہ واضح نہیں کہ آیا ٹرمپ کسی ایک مخصوص کمپنی پر خود سے ٹیرف عائد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ایپل نے اس معاملے پر رائٹرز کی جانب سے کیے گئے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
رائٹرز نے گزشتہ ماہ رپورٹ کیا تھا کہ ایپل نے چین پر ٹرمپ کے ٹیرف اور اس سے پیدا ہونے والے سپلائی چین کے خدشات و مہنگے آئی فونز کے امکانات کے پیش نظر بھارت کو متبادل پیداواری مرکز کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
ایپل کا کہنا ہے کہ جون سہ ماہی کے دوران امریکہ میں فروخت ہونے والے اس کے بیشتر اسمارٹ فونز بھارت سے تیار ہو کر آئیں گے۔
























Comments
Comments are closed.