BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Increased By (0.08%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Decreased By (-0.2%)
BAFL 57.72 Decreased By ▼ -0.44 (-0.76%)
BIPL 27.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 34.58 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
CNERGY 13.68 Increased By ▲ 0.57 (4.35%)
DFML 18.42 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
DGKC 215.81 Increased By ▲ 2.15 (1.01%)
FABL 99.27 Decreased By ▼ -0.29 (-0.29%)
FCCL 57.55 Decreased By ▼ -0.51 (-0.88%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.27 (1.66%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
HBL 334.31 Decreased By ▼ -3.85 (-1.14%)
HUBC 212.96 Decreased By ▼ -0.40 (-0.19%)
HUMNL 10.51 Decreased By ▼ -0.07 (-0.66%)
KEL 7.36 Decreased By ▼ -0.07 (-0.94%)
LOTCHEM 27.51 Decreased By ▼ -0.16 (-0.58%)
MLCF 101.93 Decreased By ▼ -0.82 (-0.8%)
OGDC 318.48 Decreased By ▼ -0.44 (-0.14%)
PAEL 42.86 Decreased By ▼ -0.24 (-0.56%)
PIBTL 16.72 Increased By ▲ 0.09 (0.54%)
PIOC 274.51 Increased By ▲ 1.51 (0.55%)
PPL 230.62 Increased By ▲ 1.17 (0.51%)
PRL 76.73 Increased By ▲ 5.93 (8.38%)
SNGP 102.23 Decreased By ▼ -2.35 (-2.25%)
SSGC 27.10 Decreased By ▼ -0.31 (-1.13%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.03 (0.35%)
TPLP 15.45 Decreased By ▼ -0.31 (-1.97%)
TRG 60.09 Decreased By ▼ -0.20 (-0.33%)
UNITY 11.47 Decreased By ▼ -0.25 (-2.13%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)

متنازعہ نہری منصوبوں کے خلاف منگل کے روز ہونے والا احتجاج پرتشدد واقعات میں تبدیل ہوگیا ہے جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم ازکم 4 افراد زخمی ہوگئے۔ احتجاج کے دوران سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی رہائش گاہ کو بھی آگ لگا دی گئی۔ یہ بات آج نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق، احتجاج موڑو بائی پاس پر کیا گیا جہاں مظاہرین متنازعہ نہری ترقیاتی منصوبوں کے خلاف دھرنا دے رہے تھے۔ مظاہرین کے مطابق یہ نہری منصوبہ غیر منصفانہ ہے۔ کشیدگی اُس وقت بڑھی جب پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس پر دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔

آج نیوز کے مطابق کم از کم چار افراد، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، زخمی ہوئے اور انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کے گھر کو شدید نقصان پہنچا اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر قریبی مارکیٹیں اور دکانیں بند کرادی گئی ہیں۔

آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاء الحسن لنجار نے اپنے گھر پر آگ لگانے کے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ کچھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ میں اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کا حکم دے رہا ہوں۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ حکومت کسی کو بھی پرامن احتجاج کی آڑ میں فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور عوام کو یقین دہانی کرائی کہ صورتحال کو قانونی طریقے سے قابو میں لایا جائے گا۔

علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور تحقیقات آگے بڑھنے کی صورت میں صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ جب تک پانی کے زیر التوا تنازعات مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے حل نہیں ہو جاتے تب تک نئے نہری منصوبے نہیں بنائے جائیں گے۔

وزیراعظم نے یہ اعلان پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نہری منصوبوں پر کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں کیا جائے گا جب تک کہ صوبوں کا اتفاق نہ ہو۔

Comments

Comments are closed.