متنازعہ نہری منصوبوں کے خلاف منگل کے روز ہونے والا احتجاج پرتشدد واقعات میں تبدیل ہوگیا ہے جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کم ازکم 4 افراد زخمی ہوگئے۔ احتجاج کے دوران سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی رہائش گاہ کو بھی آگ لگا دی گئی۔ یہ بات آج نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔
مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق، احتجاج موڑو بائی پاس پر کیا گیا جہاں مظاہرین متنازعہ نہری ترقیاتی منصوبوں کے خلاف دھرنا دے رہے تھے۔ مظاہرین کے مطابق یہ نہری منصوبہ غیر منصفانہ ہے۔ کشیدگی اُس وقت بڑھی جب پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس پر دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
آج نیوز کے مطابق کم از کم چار افراد، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، زخمی ہوئے اور انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کے گھر کو شدید نقصان پہنچا اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر قریبی مارکیٹیں اور دکانیں بند کرادی گئی ہیں۔
آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاء الحسن لنجار نے اپنے گھر پر آگ لگانے کے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ کچھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ میں اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کا حکم دے رہا ہوں۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ حکومت کسی کو بھی پرامن احتجاج کی آڑ میں فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور عوام کو یقین دہانی کرائی کہ صورتحال کو قانونی طریقے سے قابو میں لایا جائے گا۔
علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور تحقیقات آگے بڑھنے کی صورت میں صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ جب تک پانی کے زیر التوا تنازعات مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے حل نہیں ہو جاتے تب تک نئے نہری منصوبے نہیں بنائے جائیں گے۔
وزیراعظم نے یہ اعلان پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نہری منصوبوں پر کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں کیا جائے گا جب تک کہ صوبوں کا اتفاق نہ ہو۔


Comments
Comments are closed.